ترقی یافتہ اور خواندہ بلوچستان کا خواب ہماری اجتماعی کوششوں سے حقیقت بن سکتا ہے، جعفر خان مندوخیل

گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ خواندگی کا عالمی دن ہمیں اس عزم اور احساس کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ تعلیم ہی روشن، بااختیار اور پائیدار مستقبل کی بنیاد ہے، ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ بلوچستان کا خواب ہماری اجتماعی کوششوں سے حقیقت بن سکتا ہے، اس مقصد کےلئے حکومت، تعلیمی اداروں، اساتذہ، والدین، سول سوسائٹی اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا …

کوئٹہ۔ 08 ستمبر (اے پی پی):گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ خواندگی کا عالمی دن ہمیں اس عزم اور احساس کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ تعلیم ہی روشن، بااختیار اور پائیدار مستقبل کی بنیاد ہے، ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ بلوچستان کا خواب ہماری اجتماعی کوششوں سے حقیقت بن سکتا ہے، اس مقصد کےلئے حکومت، تعلیمی اداروں، اساتذہ، والدین، سول سوسائٹی اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی مجموعی شرحِ خواندگی میں 7 فیصد اضافہ اور سات لاکھ اڑسٹھ ہزار بچوں کو دوبارہ سکولوں میں واپس لانا محکمۂ تعلیم کی قابلِ فخر کامیابی ہے، یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ درست سمت، موثر پالیسی اور مسلسل محنت کے ذریعے تعلیمی میدان میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج خواندگی کا تصور صرف پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت تک محدود نہیں رہا، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور روبوٹکس کے دور میں خواندگی کا پیمانہ بھی تبدیل ہو چکا ہے۔

گورنر نے کہا کہ پل پل بدلتی دنیا میں ڈیجیٹل لٹریسی ہی کسی فرد کو جدید دنیا سے باخبر، باصلاحیت اور موثر طور پر منسلک رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، ہمیں اپنے بچوں کو صرف روایتی تعلیم بلکہ ڈیجیٹل مہارتوں، سائنسی سوچ، تحقیق، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی قابلیت سے بھی آراستہ کرنا ہوگا۔جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ایک جامع، یکساں اور مستقبل شناس قومی تعلیمی پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے جو جذبات کے بجائے سائنسی حقائق اور زندہ انسانوں کی ضروریات کی بنیاد پر تشکیل دی جائے، ایسی پالیسی ہی پاکستان بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کو بدلتی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں غربت اور بے روزگاری آج بھی تعلیم کے حصول کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں، ہمارے بہت سے ذہین اور تحقیق و تجسس سے معمور طلبہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بجائے معاشی مجبوریوں کے باعث محنت و مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ گورنر نے کہا کہ خواندگی محض اعداد و شمار کا نام نہیں، یہ انسان کو اپنے حقوق، صلاحیتوں اور امکانات سے آگاہ کرنے کا ذریعہ ہے، پڑھے لکھے اور باصلاحیت بلوچستان کا خواب صرف حکومت کی کوششوں سے مکمل نہیں ہو سکتا اس کے لیے بین الاقوامی اداروں، تعلیمی تنظیموں، نجی شعبے اور سماجی اداروں کی مدد و معاونت بھی ناگزیر ہے۔