سمندری خوراک کی برآمدات ریکارڈ 568 ملین ڈالرکی سطح تک پہنچ چکی ہیں، خرم شہزاد

وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ سمندری خوراک کی برآمدات ریکارڈ 568 ملین ڈالرکی سطح تک پہنچ چکی ہیں،بہتر معیار، نئی منڈیوں تک رسائی، زیادہ ویلیو ایڈیشن اور برآمدی منڈیوں میں تنوع کے ذریعے پاکستان اپنی بلیو اکانومی کو برآمدات اور معاشی ترقی کا ایک اہم محرک بنا سکتا ہے۔

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہاہے کہ سمندری خوراک کی برآمدات ریکارڈ 568 ملین ڈالرکی سطح تک پہنچ چکی ہیں،بہتر معیار، نئی منڈیوں تک رسائی، زیادہ ویلیو ایڈیشن اور برآمدی منڈیوں میں تنوع کے ذریعے پاکستان اپنی بلیو اکانومی کو برآمدات اور معاشی ترقی کا ایک اہم محرک بنا سکتا ہے۔

’’ایکس‘‘ پراپنے پیغام میں انہوں نے کہاہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں اور پہلی مرتبہ سمندری خوراک کی برآمدات کاحجم 500 ملین ڈالر کی حد عبور کرتے ہوئے 568 ملین ڈالر ریکارڈ کیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ مالی سال 24 ۔ 2023 میں پاکستان کی سی فوڈ برآمدات 406 ملین ڈالر تھیں جو مالی سال 25 ۔ 2024 میں بڑھ کر 489 ملین ڈالر ہوگئیں اور مالی سال 26 ۔ 2025 میں ان میں نمایاں اضافہ ہوا اور برآمدات 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔دو سال کے دوران سی فوڈ برآمدات میں تقریبا 40 فیصد اضافہ ہواہے ۔انہوں نے کہاکہ سی فوڈ برآمدات میں مختلف اقسام کی سمندری مصنوعات شامل ہیں۔

گزشتہ مالی سال کے دوران منجمد مچھلی کی برآمدات 105.1 ملین ڈالر، سکویڈ اور کٹل فش 103.7 ملین ڈالر، فش میل 83.1 ملین ڈالر، جھینگے 62.1 ملین ڈالر جبکہ کیکڑوں کی برآمدات 36.9 ملین ڈالر رہیں۔مشیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان سی فوڈ چین، جنوب مشرقی ایشیا، خلیجی ممالک، جاپان، جنوبی کوریا اور امریکا سمیت مختلف بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کی جا رہی ہے۔ معیار میں بہتری اور نئی منڈیوں تک رسائی کے باعث پاکستانی سی فوڈ کے لیے برآمدی مواقع میں بھی اضافہ ہوا ہے،روس کی منڈی میں بھی پاکستانی سی فوڈ کی رسائی بڑھی ہے اور 16 پاکستانی سی فوڈ پروسیسنگ پلانٹس کو روسی مارکیٹ کے لیے منظور کیا جا چکا ہے۔

خرم شہزادنے کہاکہ پاکستان کے لیے بلیو اکانومی میں برآمدات بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں تاہم ان سے بھرپور استفادے کے لیے جدید پروسیسنگ سہولیات، ویلیو ایڈیشن، ایکوا کلچر، کولڈ چین کے بنیادی ڈھانچے، عالمی معیار کے حفظانِ صحت کے تقاضوں کی تکمیل اور نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی پر مزید توجہ دینا ہوگی۔ سی فوڈ برآمدات میں مسلسل اضافہ نہ صرف پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور ساحلی معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔