اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے منگل کے روز آسیان ڈے کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا جس میں پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور کاروباری روابط کو مزید مضبوط، منظم اور نتیجہ خیز بنانے پر زور دیا گیا۔
آئی سی سی آئی میں آسیان ڈے کی تقریب، سفیروں کا تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ پر زور
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے منگل کے روز آسیان ڈے کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا جس میں پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور کاروباری روابط کو مزید مضبوط، منظم اور نتیجہ خیز بنانے پر زور دیا گیا۔ تقریب میں فلپائن کے سفیر اور اسلام آباد میں آسیان کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر ایمانوئل آر-فرنانڈیز، برونائی دارالسلام کے ہائی کمشنر کرنل (ر) پنگیران حاجی کمال بشاہ، ویتنام کے سفیر فام آنہ توان، میانمار کے سفیر ونا ہان، تھائی لینڈ کے سفیر رونگ وُدھی ویرا بتر، انڈونیشیا کے سفیر چندرا وارسننتو سوکوٹجو اور ملائیشیا کے ڈپٹی چیف آف مشن محمد علیف شفیق بن محمد فائوزی سمیت آئی سی سی آئی کے عہدیداران، سفارتی نمائندگان اور کاروباری شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
فلپائن کے سفیر اور آسیان کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر ایمانوئل آر-فرنانڈیز نے آسیان ڈے کی تقریب کی میزبانی پر آئی سی سی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آسیان کی دوستی اب محض حکومتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ کاروباری اداروں، تعلیمی و سماجی اداروں، کمیونٹیز اور عوام کے درمیان بھی مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے فلپائن کی 2026ء کی آسیان چیئرمین شپ کے موضوع “Navigating Our Future Together” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں، ٹیکنالوجی کے انقلاب، سپلائی چینز کی ازسرنو تشکیل اور موسمیاتی چیلنجز کے باعث باہمی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتیں اور سفارتخانے دروازے کھول سکتے ہیں جبکہ آئی سی سی آئی جیسے چیمبرز درست کاروباری افراد کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں تاہم ان مواقع کو حقیقی شراکت داری میں تبدیل کرنا کاروباری برادری کی ذمہ داری ہے۔اپنے استقبالیہ خطاب میں آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ سب سے پائیدار شراکت داریاں اعتماد کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں اور آسیان پاکستان سمیت مختلف ممالک کے عوام، معیشتوں اور اقوام کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیان کا شاندار سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ مختلف تاریخ، ثقافت اور ترقی کی سطح رکھنے والے ممالک باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کے ذریعے تنوع کو طاقت اور خوشحالی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور آسیان کے تعلقات کے اگلے مرحلے کو تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ اور بزنس ٹو بزنس روابط کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔آئی سی سی آئی کے سابق صدر اور قائمہ کمیٹی برائے ڈپلومیٹس کے چیئرمین ظفر بختاوری نے آسیان سیکرٹریٹ، آسیان کے عوام اور اسلام آباد میں آسیان ممالک کے سفارتی مشنز کو آسیان ڈے کی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کو ایک مضبوط علاقائی فورم کے تحت متحد کرنا آسیان کی ایک قابل تحسین کامیابی ہے اور پاکستان آسیان کو ایک اہم اقتصادی شراکت دار سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آسیان کے درمیان تجارت تقریباً 10 ارب ڈالر ہے تاہم اس میں مزید اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے پاکستان کی آسیان کے ساتھ شراکت داری اور آسیان ریجنل فورم میں شرکت کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو فل ڈائیلاگ پارٹنر کا درجہ دینے کے معاملے کو آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان براہ راست فضائی روابط کو فروغ دینے پر بھی زور دیا تاکہ تجارت، سیاحت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط میں اضافہ ہو۔برونائی دارالسلام کے ہائی کمشنر کرنل (ر) پنگیران حاجی کمال بشاہ نے کہا کہ آسیان نے ثابت کیا ہے کہ مختلف سائز، ثقافتوں اور حالات رکھنے والے ممالک باہمی احترام، تعاون اور مفاہمت کے ذریعے ایک مضبوط کمیونٹی تشکیل دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسیان کے کسی ایک ملک کے ساتھ کاروباری روابط قائم کرنے سے دیگر آسیان ممالک میں بھی کاروباری مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے آسیان ممالک کے ساتھ آئی سی سی آئی کے کاروباری وفود اور بی ٹو بی روابط کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آسیان کے درمیان قائم پل کو مزید عملی اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ برونائی پاکستان کے لیے اپنی قومی ایئرلائن کی پروازیں شروع کرنے کے حوالے سے فزیبلٹی سٹڈی کر رہا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سیاحت، سفری سہولیات اور اشیاء کی نقل و حرکت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ویتنام کے سفیر فام آنہ توان نے کہا کہ ویتنام پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، تزویراتی محل وقوع اور وسیع مارکیٹ کو دوطرفہ و علاقائی اقتصادی تعاون کے لیے اہم اثاثہ قرار دیا۔
انہوں نے پاکستان اور آسیان کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو مزید مستحکم کرنے، نجی شعبے کے کردار میں اضافے، مارکیٹ تک بہتر رسائی اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا۔انڈونیشیا کے سفیر چندرا وارسننتو سوکوٹجو نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دیرینہ دوستی اور باہمی یکجہتی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آسیان دنیا کے متحرک ترین اقتصادی خطوں میں شامل ہے جبکہ پاکستان اپنی بڑی مارکیٹ، اہم جغرافیائی محل وقوع اور فعال نجی شعبے کے باعث جنوبی ایشیا میں آسیان کے لیے ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے۔ انہوں نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارتی فریم ورک کو جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) میں اپ گریڈ کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے کی حمایت کی اور آئی سی سی آئی و پاکستانی کاروباری برادری کو 41ویں ٹریڈ ایکسپو انڈونیشیا 2026 میں شرکت کی دعوت دی، جو 14 سے 18 اکتوبر تک منعقد ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 100 پاکستانی کاروباری ادارے پہلے ہی اس ایکسپو میں شرکت کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔تھائی لینڈ کے سفیر نے پاکستان اور آسیان کے درمیان تجارتی حجم کو دونوں جانب موجود وسیع امکانات کے مقابلے میں کم قرار دیتے ہوئے تجارتی تعلقات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ٹیرف اصلاحات اور تجارت میں سہولت کاری کے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی آئی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کی رجسٹریشن، لائسنسنگ اور سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو آسان بنانا ضروری ہے تاکہ آسیان کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروبار کے لیے مزید سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔
میانمار کے سفیر ونا ہان نے آسیان ڈے کے انعقاد پر آئی سی سی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان اور آسیان کے درمیان تعلقات کے لیے چیمبر کی مسلسل کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اسلام آباد میں آسیان مشنز اور پاکستانی کاروباری برادری کے درمیان دوستانہ اور مضبوط روابط موجود ہیں۔ملائیشیا کے ڈپٹی چیف آف مشن محمد علیف شفیق بن محمد فائوزی نے کہا کہ 680 ملین سے زائد آبادی پر مشتمل آسیان خطہ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کا ایک اہم اور قابل قدر شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور عوامی سطح کے مضبوط روابط موجود ہیں۔
انہوں نے خوراک و زراعت، آٹو موبائل، ٹیکسٹائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سروسز، سیاحت، قابل تجدید توانائی اور مینوفیکچرنگ کو باہمی تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہیں تاہم کاروباری برادری ہی مواقع کو حقیقی تجارت، سرمایہ کاری اور شراکت داری میں تبدیل کرتی ہے۔آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے تقریب کی نظامت کرتے ہوئے سفارتی شخصیات کا خیرمقدم کیا اور آئی سی سی آئی اور آسیان مشنز کے درمیان مسلسل اور عملی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔
چیئرمین آئی سی سی آئی قائمہ کمیٹی برائے آسیان چوہدری محمد علی نے پاکستان اور آسیان کے درمیان ادارہ جاتی اور کاروباری روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب کے اختتام پر آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے خطبہ تشکر پیش کرتے ہوئے آسیان ممالک کے سفیروں، ہائی کمشنرز، سفارتی نمائندگان اور کاروباری برادری کا شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر آسیان ڈے کے حوالے سے خصوصی کیک بھی کاٹا گیا جبکہ شریک سفیروں اور سربراہان مشن کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔









