آسٹریلیا نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھمز سے متعلق مجوزہ اصلاحات پر ٹرمپ انتظامیہ کی تنقید کے باوجود امریکا کے ساتھ تعلقات کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
سوشل میڈیا اصلاحات پر تنقید مسترد، امریکا سے تعلقات کو کوئی خطرہ نہیں،آسٹریلیا

مزید خبریں
کینبرا۔9ستمبر (اے پی پی):آسٹریلیا نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھمز سے متعلق مجوزہ اصلاحات پر ٹرمپ انتظامیہ کی تنقید کے باوجود امریکا کے ساتھ تعلقات کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
رائٹرز کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ مجوزہ قانون کے تحت سوشل میڈیا صارفین کو الگورتھمز سے دستبردار ہونے کا اختیار دیا جائے گا جس سے وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی سوشل میڈیا فیڈ ترتیب دے سکیں گے، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آزادی اظہار کو محدود کرسکتا ہے۔مجوزہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی سوشل میڈیا کمپنیوں پر زیادہ سے زیادہ 10 کروڑ 92 لاکھ آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 7 کروڑ 90 لاکھ امریکی ڈالر)جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔آسٹریلین فنانشل ریویو نے وائٹ ہاؤس کے ترجمان کُش ڈیسائی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی شراکت داروں کو امریکی ٹیکنالوجی شعبے پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس، جرمانے اور دیگر اقدامات عائد کرنے کے خلاف واضح طور پر خبردار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ تجارتی شراکت داروں کے ساتھ یہ معاملات اٹھاتی رہے گی۔آسٹریلیا کی وزیر مواصلات انیکا ویلز نے کہا کہ امریکی حکام نے مجوزہ قانون کے حوالے سے ان سے رابطہ نہیں کیا اور انہوں نے حکومت کی سوشل میڈیا اصلاحات کو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے ’’بھتہ خوری‘‘ قرار دینے کی تجویز مسترد کردی۔وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ ان کی حکومت اپنی پالیسیاں آسٹریلیا کے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کرتی ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اچھاقرار دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کی رواں ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ملاقات متوقع ہے۔
واضح رہے کہ زیادہ تر امریکی ملکیتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ضابطے میں لانے کی آسٹریلیا کی کوششیں موجودہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات میں ایک اہم تنازعہ بن گئی ہیں۔ امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی نے آسٹریلیا کے انٹرنیٹ ریگولیٹر کو طلب کیا اور الزام عائد کیا کہ ان کے ملک میں امریکی آزادی اظہار کو سنسر کرنے کا نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس عائد کرنے کے بھی مخالف ہیں اور ایسے ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔








