چاول میں زرعی زہروں کے بقایا اثرات اور افلا ٹاکسن کے تدارک پر زرعی یونیورسٹی ملتان میں سیمینار

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے تعاون سے چاول میں کیڑے مار زہروں کے بقایا اثرات کی مقررہ حد (ایم آر ایل) اور افلا ٹاکسن کے تدارک کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا

ملتان۔ 09 ستمبر (اے پی پی):محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے تعاون سے چاول میں کیڑے مار زہروں کے بقایا اثرات کی مقررہ حد (ایم آر ایل) اور افلا ٹاکسن کے تدارک کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا، جس میں زرعی ماہرین، اساتذہ، محققین اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ چاول پاکستان کی اہم نقد آور اور برآمدی فصل ہے ، عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے محفوظ اور معیاری چاول کی پیداوار ضروری ہے۔کاشتکاروں میں زرعی ادویات کے محفوظ استعمال،جدید پیداواری طریقوں اور فصل کے بعد مناسب ذخیرہ کاری کے حوالے سے آگاہی بڑھانا ہوگی۔ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز پنجاب ڈاکٹر عامر رسول نے کہا کہ محکمہ زراعت کیڑے مار ادویات کے متوازن استعمال اور ان کے بقایا اثرات کو مقررہ حدود میں رکھنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔کاشتکاروں کو ادویات کی درست مقدار،انتخاب اور برداشت سے قبل مقررہ وقفے کی پابندی بارے رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ چاول میں افلا ٹاکسن اور زرعی زہروں کے غیر ضروری استعمال کی روک تھام کے لیے پیداوار، ذخیرہ اور برآمد کے تمام مراحل پر حفاظتی اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔ سرکاری اداروں، ماہرین،کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کے باہمی تعاون سے پاکستانی چاول کا معیار اور عالمی منڈی میں اس کی مسابقت مزید بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

مزید خبریں