چھوٹے اوردرمیانے درجہ کے کاروبار، معاشی طورپرکمزور طبقات کی استعداد بڑھانے اور بینکوں سے قرض حاصل کرنے کی اہلیت بہتر بنانے کے لیے عملی معاونت ناگزیر ہے ، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا مالیات تک رسائی کے حوالہ سےاسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

چھوٹے اوردرمیانے درجہ کے کاروبار، معاشی طورپرکمزور طبقات کی استعداد بڑھانے اور بینکوں سے قرض حاصل کرنے کی اہلیت بہتر بنانے کے لیے عملی معاونت ناگزیر ہے ، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا مالیات تک رسائی کے حوالہ سےاسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ مالیاتی سہولیات تک رسائی بڑھانے کے لیے پورے مالیاتی نظام کے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط اقدامات ضروری ہیں چھوٹے اوردرمیانے درجہ کے کاروبار، معاشی طورپرکمزور طبقات کی استعداد بڑھانے اور بینکوں سے قرض حاصل کرنے کی اہلیت بہتر بنانے کے لیے عملی معاونت ناگزیر ہے۔انہوں نے یہ بات بدھ کویہاں وزارت خزانہ میں مالیات تک رسائی کے حوالہ سےاسٹیئرنگ کمیٹی کے چوتھے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی،اجلاس میں ترجیحی شعبوں، بالخصوص چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز)، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، برآمدات، قابل تجدید توانائی اور ہائوسنگ کے لیے سستی اور جامع مالیاتی سہولیات کی فراہمی کے اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر خزانہ نے اس امر پر زور دیا کہ سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں غور و خوض کو زیادہ مربوط، نتائج پر مبنی اور بتدریج عملی اقدامات پر مرکوز کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اہم تجاویز کو اسٹیئرنگ کمیٹی میں پیش کرنے سے قبل متعلقہ ذیلی کمیٹیوں میں زیر غور لایا جائے تاکہ انہیں جامع، مربوط اور تمام پہلوو¿ں کا احاطہ کرنے والے جائزے کے بعد حتمی فورم کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ اجلاس میں چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبار کوقرضوں کی فراہمی کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اگست 2026 کے اختتام تک ایس ایم ایز کے لیے فنانسنگ 1.067 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی ہے، جس سے 323,987 قرضہ لینے والے افراد وادارے مستفید ہو رہے ہیں، ملک کے نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں میں ایس ایم ای فنانسنگ کا حصہ 9.90 فیصد ہے، اجلاس کوبتایاگیا کہ وسط مدتیہدف کے تحت جون 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ کو بڑھا کر2ٹریلین روپے اور قرض لینے والے کاروباری افراد کی تعداد 775,000 تک پہنچانے کا منصوبہ ہے، جس کے نتیجے میں ملکی نجی شعبے کو مختصرمدت کے قرضوں میں ایس ایم ای کا حصہ 13 فیصد ہو جائے گا۔

وزیر خزانہ نے ان اہداف کی جانب پیش رفت برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے آئندہ چند ماہ کے دوران ایس ایم ای قرضوں میں اضافے کے لیے بینک وار واضح منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ہول سیل ایس ایم ای فنانسنگ فریم ورک پر ہونے والی پیش رفت کا بھی خیرمقدم کیا، جس سے مالیاتی سہولیات کی رسائی وسیع کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے استفادہ کرنے والے کاروباری اداروں کی تعداد بڑھانے میں مدد ملے گی۔ اجلاس میں زرعی شعبہ کوقرضوں کی فراہمی کا بھی جائزہ لیا گیا جس کاحجماگست 2026 کے اختتام تک 1.268ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے اس سے 33 لاکھ 92 ہزار 92 افراد مستفید ہو رہے ہیں، ملکی نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں میں زرعی فنانسنگ کا حصہ 10.90 فیصد ریکارڈکیاگیا ہے۔اجلاس کوبتایاگیا کہ وسط مدتی ہدف کے تحت جون 2028 تک زرعی فنانسنگ 2ٹریلین روپے تک بڑھانے اور قرض لینے والے کسانوں کی تعداد 55 لاکھ** تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اجلاس میں زَر خیزِ ای آسان زرعی قرضہ پروگرام پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیاگیا جس کا مقصد ملک بھر میں چھوٹے کاشتکاروں، بشمول مزارعین، کو بغیر ضمانت قرضوں کی سہولت فراہم کرنا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت اب تک 58919کسان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جبکہ 35838 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے 16,964 قرضے جن کی مجموعی مالیت ر 7.349 ارب روپے بنتی ہے، کے منظور کیے گئے، ، 1.956 ارب روپے مالیت کے 5174 قرضے تقسیم بھی کیے جا چکے ہیں۔ وزیر خزانہ نے اس پروگرام کی رسائی مزید بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا کہ منظور شدہ قرضے بلا تاخیر حقیقی مالی معاونت میں تبدیل ہوں اور کسانوں کو بروقت رقوم دستیاب ہوں۔ اجلاس میں ہاو¿سنگ فنانس کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام گھر ہو تو اپنا کے تحت نمایاں پیش رفت جاری ہے، پروگرام کے ذریعے 20 سال تک کی مدت کے لیے سستے ہاو¿سنگ فنانس کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ پہلے 10 سال کے لیے شرح سود 5 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

اجلاس کوبتایاگیاکہ 4 ستمبر 2026 تک پروگرام کے تحت منظور شدہ ہاو¿سنگ فنانس 351.3 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو اگست کے اختتام کے مقابلے میں 38.3 ارب روپے زیادہ ہے۔ یوں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں منظور شدہ فنانسنگ میں تقریباً 12 فیصد اضافہ ہواہے۔اجلاس کوبتایاگیا کہ پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 156813 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 60 349 قرضےجن کی مالیت351.3 ارب روپے ہے منظور کیے گئے، جبکہ 9,717 قرضے جن کی مالیت 51.13 ارب روپے ہیں پہلے ہی تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ وزیر خزانہ نے منظور شدہ قرضوں کو تیزی سے تقسیم کرنے اور اس رفتار کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ہاو¿سنگ فنانس کی ذیلی کمیٹی کے ذریعے ایسے عملی اقدامات آگے بڑھانے کی ہدایت کی جن سے سستے رہائشی قرضوں کے حصول کا عمل مزید آسان اور عام شہریوں کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کوبتایاگیا کہ 17 بینک اس پروگرام میں شریک ہیں اور اب تک 17118 درخواستیں جن کی مالیت 2.581 ارب روپے ہیں منظور کی جا چکی ہیں، 4228 قرضے جن کی مالیت 804 ملین روپے ہیں، تقسیم کیے گئے ہیں۔ اب تک 1860 الیکٹرک بائیکس بھی مستحقین کے حوالے کی جا چکی ہیں۔وزیر خزانہ نے زور دیا کہ اب توجہ ان مستحقین کو الیکٹرک بائیکس کی فراہمی تیز کرنے پر مرکوز کی جائے جن کے قرضے منظور اور تقسیم ہو چکے ہیں، تاکہ مالی منظوریوں کو جلد از جلد عملی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) نے کمیٹی کو تین اہم شعبوں میں جاری اقدامات سے آگاہ کیا، جن میں مالیاتی خواندگی پروگرام، ایس ایم ای فنانسنگ ہیلپ ڈیسک اور اوور دی کاو¿نٹر دستاویزات و ٹولز شامل ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں مالیاتی خواندگی کے 560 تربیتی پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ ہے، جن میں سے تقریباً 100 پروگرام پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں۔ وزیر خزانہ نے پیش رفت کو سراہتے ہوئے ان پروگراموں کے نتائج کا باقاعدگی سے جائزہ لینے اور شرکاءکی آرا کو شامل کرتے ہوئے ان کی افادیت میں مسلسل بہتری لانے پر زور دیا۔کمیٹی کو پارٹنر بینکوں کے تعاون سے قائم کیے جانے والے ایس ایم ای فنانسنگ ہیلپ ڈیسک کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ کے دوران پانچ ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے۔ اجلاس میں ڈیجیٹل ٹولز، شراکت داری اور ابلاغی ذرائع کے ذریعے ایس ایم ایز میں مالیاتی سہولیات سے متعلق آگاہی اور ان تک رسائی بہتر بنانے کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خزانہ نے سمیڈا کو ہدایت کی کہ وہ شریک بینکوں کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے پہلے سے موجود پلیٹ فارمز اور شراکت داریوں سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور ان اقدامات کو بڑے پیمانے پر وسعت دے، خصوصاً ایس ایم ایز کی استعداد کار، مالیاتی تیاری اور رسمی مالیاتی نظام سے قرض کے حصول میں آسانی پیدا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالیاتی سہولیات تک رسائی بڑھانے کے لیے پورے مالیاتی نظام کے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز اور دیگر طبقات کی استعداد اور بینکوں سے قرض حاصل کرنے کی اہلیت بہتر بنانے کے لیے عملی معاونت بھی ناگزیر ہے۔وزیر خزانہ نے مالیاتی انتظام، دستاویزات کی تیاری اور نقدی کے بہاو¿ کی شفافیت جیسے شعبوں میں کاروباری اداروں کی استعداد بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ رسمی مالیاتی اداروں کے ساتھ زیادہ مو¿ثر انداز میں معاملات کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ مالیاتی سہولیات تک زیادہ سے زیادہ رسائی حکومت کے اس وسیع تر مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہے جس کے تحت معیشت کو نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔وزیرخزانہ نے کہا کہ اب توجہ مالیاتی فریم ورک اور قرضوں کی منظوری تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں حقیقی قرضوں، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمی میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے، جبکہ ان کاروباری اداروں اور افراد تک مالیاتی سہولیات کی رسائی بتدریج بڑھائی جائے جو روایتی طور پر رسمی مالیاتی نظام سے محروم رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے اس امر پر زور دیا کہمالیات تک رسائی کے فریم ورککو قابل پیمائش پیش رفت، مو¿ثر رابطہ کاری اور بروقت عملدرآمد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے متعلقہ ذیلی کمیٹیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں کام کو تیز کریں اور اہم سفارشات و عملدرآمد سے متعلق معاملات بروقت اسٹیئرنگ کمیٹی کے سامنے پیش کریں، تاکہ وزیراعظم کے مالیات تک رسائی منصوبہ کے اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت جاری رکھی جا سکے۔اجلاس میں وفاقی سیکریٹری خزانہ، وفاقی سیکریٹری ہاو¿سنگ و ورکس، گورنرسٹیٹ بینک آف پاکستان، چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ، چیف ایگزیکٹو آفیسر کرانداز پاکستان، چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیڈا کے علاوہ وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔