پاکستان ہیلتھ سیکٹر میں اپنی سابقہ کارکردگی کے ریکارڈ توڑتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان ہیلتھ سیکٹر میں اپنی سابقہ کارکردگی کے ریکارڈ توڑتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، صحت کا شعبہ قومی سلامتی اور قومی معیشت کا اہم مسئلہ ہے، حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات، ڈیجیٹائزیشن، سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان ہیلتھ سیکٹر میں اپنی سابقہ کارکردگی کے ریکارڈ توڑتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، صحت کا شعبہ قومی سلامتی اور قومی معیشت کا اہم مسئلہ ہے، حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات، ڈیجیٹائزیشن، سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے ان خیالات کا اظہار 23ویں ہیلتھ ایشیا ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپو میں 600 سے زائد اسٹالز قائم ہیں، 200 سے زائد ملکی و غیر ملکی کمپنیاں شریک ہیں جبکہ 30 سے زائد کانفرنسز منعقد ہوں گی اور متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ چند ماہ قبل اسلام آباد میں پاکستان اور چین کی کمپنیوں کے درمیان بی ٹو بی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں چین سے صحت کے شعبے کی 180 جبکہ پاکستان سے 300 سے زائد کمپنیاں شریک ہوئیں۔

وزیراعظم نے کانفرنس کا افتتاح کیا اور دو روزہ کانفرنس کے دوران 663 ملین ڈالر کے معاہدے طے پائے، جو آئندہ 12 سے 14 ماہ کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری کی صورت میں سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ تقریباً 1.2 ارب ڈالر کے ایم او یوز بھی طے ہوئے ہیں، جن پر حکومت پیش رفت کا جائزہ لے رہی ہے اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر نے ہیلتھ ایشیا ایکسپو کے انعقاد پر ای کامرس گیٹ وے اور اس کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر سے کمپنیوں اور مصنوعات کو ایک پلیٹ فارم پر لانا قابل تحسین اقدام ہے۔

پاکستان اس وقت تقریباً 26 کروڑ آبادی کا ملک ہے، جو ایک طرف چیلنج ہے تو دوسری جانب ہیلتھ کیئر فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ اور موقع بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں گزشتہ عرصے کے دوران 38 فیصد اضافہ ہوا، جس کی ایک اہم وجہ لائسنسنگ اور دیگر انتظامی عمل کو ڈیجیٹائز کرنا ہے۔ میڈیکل ڈیوائسز کی لائسنسنگ کا عمل بھی مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا گیا ہے۔ پہلے جن معاملات میں طویل عرصہ لگتا تھا، اب وہ تقریباً 21 دنوں میں مکمل ہو رہے ہیں اور اب تک 4,700 سے زائد کیسز نمٹائے جا چکے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت پاکستان میں ویکسین کی مقامی پیداوار کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ پاکستان اپنے بچوں کو 13 مختلف ویکسینز فراہم کرتا ہے اور انڈونیشیا کے ساتھ معاہدے کے قریب ہیں، جس کے بعد پاکستان میں پہلی مرتبہ ویکسین کی مقامی پیداوار شروع ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیشنل ویکسین پالیسی تیار کی گئی اور کابینہ سے اس کی منظوری لی گئی ہے۔وفاقی وزیر صحت نے میڈیکل ایجوکیشن کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں 188 میڈیکل کالجز کام کر رہے ہیں جبکہ ہر سال تقریباً 22 ہزار ڈاکٹرز تیار ہوتے ہیں۔

پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور مختلف ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے نرسنگ کے شعبے میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نرسنگ کونسل کے پرانے نظام اور قانون میں اصلاحات کی گئی ہیں اور نئے نظام کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں نرسنگ کی تعلیم کو کاروبار بنانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔ برطانیہ کی ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ٹیم کی معاونت سے نرسنگ کے کورسز اور ماڈیولز کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ پاکستانی نرسز نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر میں خدمات انجام دے سکیں۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ دنیا کو تقریباً 25 لاکھ نرسز کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان کو بھی تقریباً 9 لاکھ نرسز درکار ہیں۔ حکومت کا مقصد معیاری نرسنگ تعلیم کے ذریعے عالمی معیار کی نرسنگ افرادی قوت تیار کرنا ہے۔

انہوں نے یونیورسل میڈیکل ریکارڈ (UMR) کے منصوبے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان میں مختلف ہسپتالوں میں مریضوں کا ریکارڈ الگ الگ موجود ہے، جس کی وجہ سے مریض کے دوسرے ہسپتال منتقل ہونے پر طبی ریکارڈ تک رسائی مشکل ہوتی ہے۔ نادرا کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے اور مستقبل میں شناختی کارڈ نمبر کو ہر پاکستانی شہری کے یونیورسل میڈیکل ریکارڈ نمبر کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کا پائلٹ پروجیکٹ اسلام آباد سے شروع کیا جائے گا اور بعد ازاں پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے صحت کے شعبے کا تصور تبدیل کیا ہے، اب توجہ صرف بیمار شخص کے علاج پر نہیں بلکہ انسان کو بیمار ہونے سے بچانے اور بیماریوں کی روک تھام پر مرکوز ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں گزشتہ 14 ماہ کے دوران سرکاری شعبے کے ذریعے 2,595 نئے بیڈز کا اضافہ کیا گیا۔

حکومت نے ہیلتھ انشورنس کے ذریعے 15 نجی ہسپتالوں کو نظام میں شامل کیا، جس سے اسلام آباد میں اضافی طبی سہولیات میسر آئی ہیں۔ اگر یہ ہسپتال سرکاری سطح پر تعمیر کیے جاتے تو اس عمل میں کئی سال لگ سکتے تھے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان اس وقت 52 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے اور ڈبلیو ایچ او کے ریگولیٹری سسٹم میں لیول ٹو پر ہے۔ اپریل 2027 میں پاکستان کی فائنل انسپیکشن متوقع ہے۔ اگر پاکستان ڈبلیو ایچ او لیول تھری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو پاکستانی ادویات کے لیے تقریباً 100 مزید ممالک کی مارکیٹیں کھل سکتی ہیں، جس سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ صحت صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور قومی معیشت کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر ایک بڑی تعداد میں لوگ بیک وقت بیمار رہیں تو ملک معاشی طور پر ترقی نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بیماریوں کی روک تھام پر ماضی میں مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ غذائی قلت اور خون کی کمی جیسے مسائل کے باعث بچوں اور ماؤں کی اموات تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 11 ہزار ماؤں کی دورانِ حمل اموات ہوتی ہیں جبکہ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں بھی اموات کی شرح تشویشناک ہے۔ غذائی قلت کے نتیجے میں بچوں میں جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور ملک میں تقریباً 43 فیصد بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں وزارت صحت نے ایسے اقدامات پر توجہ مرکوز کی ہے جن کا مقصد لوگوں کو مریض بننے سے پہلے بیماریوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ 13 سے 14 ماہ میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم ابھی بہت سا کام باقی ہے اور نظام میں خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے مسلسل اصلاحات جاری ہیں۔وفاقی وزیر نے ہیلتھ ایشیا ایکسپو میں شریک ملکی و غیر ملکی مندوبین، کمپنیوں اور میڈیا کے نمائندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز پاکستان میں سرمایہ کاری لانے، پاکستانی مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور ملکی ہیلتھ انڈسٹری کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔