وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ علامہ محمد اقبال کے فکر و فلسفے کو فن کے ذریعے پیش کرنا ایک منفرد اور موثر کاوش ہے اور حکومت اقبال کے پیغام کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کے لیے ایسے فن پاروں کو بیرون ملک نمائشوں میں بھی پیش کرنے کی کوشش کرے گی
علامہ اقبال کے کلام کو فن کے ذریعے دنیا بھر میں متعارف کرائیں گے، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی

مزید خبریں
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ علامہ محمد اقبال کے فکر و فلسفے کو فن کے ذریعے پیش کرنا ایک منفرد اور موثر کاوش ہے اور حکومت اقبال کے پیغام کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کے لیے ایسے فن پاروں کو بیرون ملک نمائشوں میں بھی پیش کرنے کی کوشش کرے گی۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج (لوک ورثہ) اور آف گرڈ سٹوڈیوز کے اشتراک سے منعقدہ پینٹنگ اور آرٹ نمائش ساقی نامہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے لوک ورثہ ہیریٹیج میوزیم اسلام آباد میں نمائش کا افتتاح کیا۔یہ نمائش عظیم مفکر اور شاعر علامہ محمد اقبال کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی جس میں معروف فنکارائوں گیتی آراء، لبنیٰ جہانگیر اور زارا حیدر بابری کے فن پارے نمائش کے لیے پیش کیے گئے۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے نمائش میں رکھے گئے فن پاروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں آرٹ ورک دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فنکاروں نے علامہ اقبال کے کلام اور پیغام کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ فن کے قالب میں ڈھالا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کام اعلیٰ معیار کا حامل ہے اور عالمی سطح پر پیش کیے جانے والے بہترین فن پاروں کے ہم پلہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس کام میں سے بعض فن پاروں کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں بیرون ملک نمائشوں کے لیے بھی پیش کیا جائے گا تاکہ دنیا کو علامہ اقبال کے فکر و پیغام سے ایک منفرد اور موثر انداز میں روشناس کرایا جا سکے۔اس موقع پر لوک ورثہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد وقاص سلیم نے ابتدائی کلمات میں نمائش کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش علامہ اقبال کے افکار اور تصورات کا فنکارانہ عکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نمائش کا بنیادی مقصد اقبال کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے۔معروف فنکارہ گیتی آراء نے نمائش کے اغراض و مقاصد اور اس منفرد فنکارانہ منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے طے کیے گئے اپنے تخلیقی سفر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ نمائش کا دورہ کریں اور علامہ اقبال کا ساقی نامہ ضرور پڑھیں تاکہ وہ اپنے عظیم ادبی اور فکری ورثے سے جڑے رہیں۔معروف آرٹسٹ زرار نے اس موقع پر علامہ اقبال کے ساقی نامہ سے منتخب اشعار بھی پڑھ کر سنائے جنہیں تقریب میں موجود شرکا نے بھرپور انداز میں سراہا۔ انہوں نے علامہ اقبال کے فکر و پیغام کو مختلف انداز میں اجاگر کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔تقریب میں پاکستان سویٹ ہومز کے سرپرست اعلیٰ زمرد خان نے بھی خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس نمائش ساقی نامہ کے ذریعے علامہ محمد اقبال کے فکر، فلسفے اور پیغام کو مصوری اور فنون لطیفہ کے ذریعے نئی نسل اور عوام تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔








