وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ (بی آئی آئی) کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی جس میں پاکستان کے توانائی کے شعبے بالخصوص ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی جدید کاری، بیٹری سٹوریج سسٹمز اور نجی سرمائے کی فراہمی میں باہمی تعاون کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ (بی آئی آئی) کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی جس میں پاکستان کے توانائی کے شعبے بالخصوص ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی جدید کاری، بیٹری سٹوریج سسٹمز اور نجی سرمائے کی فراہمی میں باہمی تعاون کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق بی آئی آئی کے ایم ڈی اور ہیڈ آف ایشیا سری نی ناگراجن کی قیادت میں وفد نے وفاقی وزیر کو بی آئی آئی کے تاریخی پس منظر اور عالمی کارکردگی سے آگاہ کیا۔1987ء سے پاکستان میں متحرک اس ادارے نے ملک میں تقریباً 600 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کر رکھا ہے اور وہ طویل المدتی شراکت داری کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
وفد نے اپنے تین بنیادی شعبوں، کلائمیٹ اینڈ انفراسٹرکچر، انفارمیشن ٹیکنالوجی و سروسز اور فنانشل سروسز کی کارکردگی کو اجاگر کیا۔ عالمی سطح پر پاور پلانٹس اور ٹرانسمیشن گرڈز کے وسیع تجربے کی روشنی میں وفد نے پاکستان کے ٹرانسمیشن سیکٹر اور نجی سرمائے کے ذریعے انفراسٹرکچر کی بہتری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اگلے 8 سے 10 سال کے لیے توانائی کی منتقلی اور نیشنل گرڈ کی بہتری کا ایک واضح اور جامع فریم ورک تیار کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بجلی کی مانگ، ترسیلی ضروریات اور تکنیکی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انٹیگریٹڈ سسٹم پلان حتمی مراحل میں ہے۔ اس ادارتی منصوبہ بندی کا مقصد ماضی کے غیر متوازن فیصلوں کا خاتمہ اور سرمایہ کاروں کو ایک مستحکم،پیشنگوئی کے قابل ماحول فراہم کرنا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی اولین ترجیح صارفین پر مالی بوجھ کو کم سے کم رکھنا ہے۔ حکومت ترسیلی نظام کے درآمدی اجزاء کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ مقامی پیداوار کے پروگرام کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھا رہی ہے۔ نیشنل گرڈ کمپنی مستقبل کی انفراسٹرکچر ضروریات کے لیے مقامی مالیاتی منڈیوں سے وسائل متحرک کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ ملاقات کے دوران قومی گرڈ میں جنوب (کوئلہ، ونڈ، سولر) اور شمال (ہائیڈرو) کے پیداواری مراکز سے وسطی لوڈ سینٹرز تک بجلی کی موثر ترسیل کے چیلنجز پر بات ہوئی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ اگلے کچھ سالوں میں قومی گرڈ کی سطح پر تقریباً 3 ہزار میگا واٹ (11,000 میگا واٹ آورز) کی صلاحیت کے یوٹیلیٹی سکیل بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز کی ضرورت پیش آئے گی جس میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کا اہم کردار ہوگا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت آئی ایف سی کی معاونت سے اے ایم آئی سمارٹ میٹرز کی تنصیب اور گرڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیز کر رہی ہے جس میں نجی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے بی آئی آئی کے وفد کو ہدایت کی کہ وہ ٹرانسمیشن کے تکنیکی امور اور منصوبوں کی تفصیلی جانچ کے لیے تکنیکی سطح پر نیشنل گرڈ کمپنی کی ٹیم کے ساتھ ملیں تاکہ باہمی تعاون کے عملی نقشہ کی راہ کو حتمی شکل دی جا سکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایسا توانائی نظام تشکیل دینا ہے جو مستقبل کی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے لیے بھی قابلِ اعتماد اور شفاف ماحول فراہم کرے۔








