تعلیم سماجی تبدیلی اور معاشی ترقی کے لیے سب سے مضبوط محرک ہے، وزیراعلی سندھ کابھٹوایس ٹی ای ایم اسکالر شپ پروگرام سے خطاب
تعلیم سماجی تبدیلی اور معاشی ترقی کے لیے سب سے مضبوط محرک ہے، وزیراعلی سندھ کابھٹوایس ٹی ای ایم اسکالر شپ پروگرام سے خطاب

مزید خبریں
کراچی۔ 10 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بھٹو ایس ٹی ای ایم اسکالرشپ پروگرام کے تحت آکسفورڈ یونیورسٹی میں مکمل طور پر فنڈڈ پوسٹ گریجویٹ سکالرشپس حاصل کرنے والے سندھ کے پانچ ہونہار طلبہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ جمعرات کو وزیر اعلی ہائو س سے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے طلبہ کو مستقبل کے رہنما، محقق اور اختراع کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے اور ملک کے مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے وزیراعلی ہائوس میں منعقدہ تقریبِ پذیرائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت پختہ یقین رکھتی ہے کہ تعلیم سماجی تبدیلی اور معاشی ترقی کے لیے سب سے مضبوط محرک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کی تعلیم پر کی جانے والی ہر سرمایہ کاری سندھ کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، یہ سکالرز ہماری نوجوان نسل کی امنگوں، صلاحیت اور عزم کی نمائندگی کرتے ہیں۔کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ، وزیر ورکس اینڈ سروسز اسماعیل راہو، وزیراعلی کے معاون خصوصی راج ویر سنگھ سوڈھا، اعلی سرکاری حکام، آکسفورڈ یونیورسٹی اور آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے نمائندے، طلبہ کے والدین، فیکلٹی ممبران اور طلبہ نے شرکت کی۔تعلیمی سال 2026-27کے لیے منتخب کیے گئے پانچ سکالرز میں فائزہ رحمان (ایم ایس سی اکنامکس فار ڈویلپمنٹ)، امرتا چانڈیو (ایم ایس سی کلینیکل ایمبریالوجی)، نیئر مصور علی (ایم ایس سی اکنامکس فار ڈویلپمنٹ)، فرجاد شاہد حسن (ڈی فل زیرو کاربن انرجی ریسرچ) اور جنید احمد میمن (ڈی فل انجینئرنگ سائنس) شامل ہیں۔
طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ دنیا کے ممتاز تعلیمی اور تحقیقی مراکز میں شمار ہونے والی آکسفورڈ یونیورسٹی میں ان کا داخلہ میرٹ، ثابت قدمی اور تعلیمی برتری کے ذریعے حاصل کیا گیا ، جو کہ ایک شاندار اعزاز ہے، آپ کی کامیابی صوبے بھر کے نوجوانوں کو ایک طاقتور پیغام دیتی ہے کہ جب صلاحیت کو محنت اور مواقع میسر ہوں تو کوئی خواب ناقابلِ حصول نہیں رہتا۔وزیراعلی نے کہا کہ بھٹو ایس ٹی ای ایم سکالرشپ پروگرام پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے تصور کردہ اہم منصوبوں میں سے ایک ہے، جس کا آغاز سندھ حکومت اور آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے درمیان شراکت داری کے ذریعے کیا گیا تاکہ باصلاحیت طلبہ کو عالمی معیار کی اعلی تعلیم تک رسائی فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کی عکاسی کرتا ہے جنہوں نے تعلیم کو بااختیار بنانے، مواقع کی فراہمی اور سماجی انصاف کے حصول کا ذریعہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے ہم محض ڈگریوں کے لیے مالی معاونت فراہم نہیں کر رہے بلکہ مستقبل کے ماہرینِ معاشیات، سائنس دانوں، انجینئرز، محققین اور پالیسی سازوں کی تربیت کر رہے ہیں، جو ہمارے دور کے چیلنجز کے حل میں اپنا کردار ادا کریں گے اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھائیں گے۔مراد علی شاہ نے معیاری تعلیم تک رسائی کو وسعت دینے اور نوجوانوں کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھانے کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے آکسفورڈ پاکستان پروگرام اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے سکالرشپس کے لیے شفاف اور میرٹ پر مبنی انتخابی عمل کو یقینی بنانے کو بھی سراہا۔وزیراعلی نے سکالرز پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کامیابیاں صرف ان کی اور ان کے خاندانوں کی نہیں بلکہ پورے صوبے کی کامیابیاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ آپ اپنے اپنے شعبوں میں رہنما بنیں گے اور ایک مضبوط، زیادہ خوشحال اور زیادہ جامع معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے ان سکالرشپس کو سندھ کے نوجوانوں پر ایک تاریخی سرمایہ کاری اور علم پر مبنی مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی بھٹو خاندان کی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتی ہے جہاں شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور بلاول بھٹو زرداری نے تعلیم حاصل کی۔
وزیر تعلیم نے بتایا کہ سندھ حکومت ماسٹرز، ایم فل اور ڈی فل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے اسکالرشپس کی مد میں سالانہ 50 کروڑ روپے مختص کرتی ہے جن میں ایس ٹی ای ایم کے شعبوں کے لیے مخصوص مواقع بھی شامل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (سیف) کے ذریعے اب تک 42,719 مستحق اور میرٹ پر پورا اترنے والے طلبہ کو پاکستان بھر کی 92 یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے 6.916 ارب روپے کی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ صلاحیتیں پوری دنیا میں یکساں طور پر موجود ہیں لیکن مواقع یکساں نہیں ہیں۔ بھٹو ایس ٹی ای ایم سکالرشپ کا مقصد اسی فرق کو ختم کرنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ سندھ کے باصلاحیت طلبہ کو دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل ہو اور وہ معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
اس موقع پر آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر جمال پیرزادہ نے سکالرشپ کے اقدام کو کامیاب پروگرام میں تبدیل کرنے پر سندھ حکومت کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ آکسفورڈ پاکستان پروگرام کا آغاز چھ سال قبل ہوا تھا تاہم ابتدا میں اسے مالی مشکلات کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صوبے کے بعض انتہائی ذہین طلبہ کی معاونت کرکے اس اقدام کو کامیاب بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ڈاکٹر پیرزادہ نے کہا کہ یہ اسکالرشپس شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے تعلیمی ورثے کو آگے بڑھاتی ہیں اور باصلاحیت نوجوانوں کو دنیا کی قدیم ترین اور ممتاز ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک تک رسائی فراہم کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب یہ طلبہ آکسفورڈ پہنچیں گے تو وہ تعلیمی برتری اور قیادت کی ایک شاندار روایت کا حصہ بنیں گے۔ تقریب کے دوران وزیراعلی نے آکسفورڈ کے وفد اور کامیاب اسکالرز کو شیلڈز اور یادگاری تحائف پیش کیے۔







