ایبٹ آباد، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ زراعت اور ٹنل فارمنگ کے فروغ کے لیے آگاہی تقریب
ایبٹ آباد، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ زراعت اور ٹنل فارمنگ کے فروغ کے لیے آگاہی تقریب

مزید خبریں
ایبٹ آباد۔ 10 ستمبر (اے پی پی):محکمہ زراعت ایبٹ آباد کے زیر اہتمام موسمیاتی تبدیلیوں کے زرعی اجناس پر اثرات، جدید و ماحول دوست زراعت کے فروغ اور بدلتے ہوئے موسمی حالات سے محفوظ رہتے ہوئے ٹنل فارمنگ کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ کے حوالہ سے آگاہی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ضلع بھر سے محکمہ زراعت کے افسران، زرعی ماہرین اور کسانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی، چیئرمین ڈیڈک و رکن صوبائی اسمبلی افتخار خان جدون، کامسیٹس یونیورسٹی کے پروفیسر انوائرنمنٹل سائنسز ڈاکٹر فرحان حفیظ، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر تورغر ممتاز خان، زرعی انجینئر سعدیہ رحمان، ڈپٹی ڈائریکٹر ہارٹی کلچر فہیم خان جدون، ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن ساجد صدیق، حویلیاں کے نوجوان زرعی سائنس اسکالر حسنات ایوب، فارم سروسز سنٹر کے صدر راشد خان جدون، نائب صدر ملک مہتاب، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت ایبٹ آباد الطاف الرحمن سمیت دیگر افسران اور کسانوں نے شرکت کی۔تقریب میں حویلیاں، لورہ، بکوٹ، شیروان، قلندرآباد، نتھیاگلی، ٹھنڈیانی اور ہرنو سمیت ضلع کے مختلف علاقوں سے کسانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
اس موقع پر محکمہ زراعت کے ماہرین نے شرکاء کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زراعت کو درپیش چیلنجز، جدید زرعی طریقوں، ماحول دوست کاشتکاری، پانی کے بہتر استعمال اور ٹنل فارمنگ کے ذریعے موسمی اثرات سے فصلوں کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔ڈپٹی ڈائریکٹر ہارٹیکلچر فہیم خان جدون نے موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں زرعی شعبے پر پڑنے والے اثرات اور جدید و ماحول دوست زراعت کے فروغ کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات کے پیش نظر روایتی طریقہ کاشت کے ساتھ ساتھ جدید زرعی ٹیکنالوجی کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ٹنل فارمنگ کے ذریعے کسان کم رقبے میں بہتر پیداوار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ موسمی شدت کے اثرات سے اپنی فصلوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ممبر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں زرعی انقلاب لانے کے وسیع امکانات موجود ہیں، تاہم پانی کی دستیابی اس شعبے کی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ صوبائی حکومت ہر سال پانی کے حوالے سے اپنا حصہ رکھتی ہے، لیکن وفاقی سطح پر صوبے کے پانی کے حصے اور اس کے لیے درکار وسائل پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ خصوصاً ڈیرہ اسماعیل خان سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں پانی کی بہتر دستیابی کے ذریعے زرعی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے اورخیبرپختونخوا کو زرعی پیداوار کے حوالے سے ایک مضبوط صوبہ بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے باعث زرعی زمین تیزی سے کم ہو رہی ہے، اس مسئلے پر بھی بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مشتاق احمد غنی نے اعلان کیا کہ صوبائی وزیر زراعت اور سیکرٹری زراعت کے ساتھ خصوصی میٹنگ کی جائے گی، جس میں صوبے میں زراعت کے شعبے کی ترقی، کسانوں کو سہولیات کی فراہمی اور زرعی زمین کے تحفظ سمیت دیگر اہم امور پر غور کیا جائے گاچیئرمین ڈیڈک و ممبر صوبائی اسمبلی افتخار خان جدون نے کہا کہ ایبٹ آباد کے کسانوں کو زراعت کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد میں ایگریکلچر انجینئرنگ کا دفتر لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ کسانوں کو جدید زرعی سہولیات ان کی دہلیز پر میسر آ سکیں۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کو زیادہ سے زیادہ مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ متعلقہ منصوبوں میں ایبٹ آباد کے حصے اور کوٹے میں اضافے کے لیے بھی کوشش کی جائے گی۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ اور کسانوں کی رہنمائی کو ترجیح دی جائے گی۔ کامسیٹس یونیورسٹی کے پروفیسر انوائرنمنٹل سائنسز ڈاکٹر فرحان حفیظ نے موسمیاتی تبدیلیوں، جدید زراعت، ماحول دوست کاشتکاری اور ٹنل فارمنگ کے حوالے سے بریفنگ دی۔
انہوں نے کسانوں کو بتایا کہ موسمی شدت اور غیر یقینی موسمی حالات کے باوجود جدید طریقہ ہائے کاشت اور مناسب ٹیکنالوجی کے استعمال سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔تقریب کے اختتام پر ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت ایبٹ آباد الطاف الرحمن نے تمام مہمانوں، زرعی ماہرین اور کسانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ زراعت کے دفاتر کے دروازے کسانوں کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔ محکمہ زراعت کسانوں کو جدید زرعی طریقوں، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچاؤ اور بہتر پیداوار کے حوالے سے ہر ممکن رہنمائی اور سہولت فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کی جانب سے کسانوں تک جدید زرعی معلومات اور حکومتی مراعات پہنچانے کا سلسلہ مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ ضلع ایبٹ آباد میں جدید، منافع بخش اور ماحول دوست زراعت کو فروغ دیا جا سکے۔








