بھارت میں مسلم شناخت اور مذہبی ورثے کے خلاف اقدامات قابل تشویش ہیں، عالمی برادری فوری نوٹس لے،مرکزی علما کونسل پاکستان

چیئرمین مرکزی علماکونسل پاکستان صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی نے بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت،تاریخی ورثے اور مذہبی املاک کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرے کہ وہ بھارتی مسلمانوں کے مذہبی و بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے موثر کردار ادا کریں

فیصل آباد۔ 10 ستمبر (اے پی پی):چیئرمین مرکزی علما کونسل پاکستان صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی نے بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت،تاریخی ورثے اور مذہبی املاک کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرے کہ وہ بھارتی مسلمانوں کے مذہبی و بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے موثر کردار ادا کریں۔ترجمان کونسل محمدعبدا للہ نے اے پی پی کو بتایا کہ اپنے دورۂ برطانیہ سے واپسی پر علماکے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ کشمیر میڈیا سروس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بھارت میں مسلم و مذہبی تاریخی ورثے سے متعلق متعدد سنگین خدشات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وقف ترمیمی ایکٹ 2025 تجاوزات کے قوانین اور دیگر انتظامی و قانونی اقدامات کے ذریعے مساجد، مزارات، مدارس، درگاہوں،عیدگاہوں اور قبرستان سمیت مسلم مذہبی املاک متاثر ہورہی ہیں۔گذشتہ تین برسوں کے دوران بی جے پی حکومت نے 860 مساجد، مزارات، مدارس اور عید گاہوں کو منہدم کیا ہے جن میں 60 مساجد،563 مزارات،226 مدارس اور 6عید گاہیں شامل ہیں۔چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان نے کہا کہ 5ستمبر2026کو سہارن پور کی تقریباً120 سال قدیم مسجد کو شہید کیا گیا۔ اترپردیش سمیت دیگر ریاستوں میں بھی مساجد، مدارس، مزارات اور عید گاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی مذہبی تنظیموں کی جانب سے وقف ترمیمی قانون اور مذہبی املاک سے متعلق اقدامات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہندوستان کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی بعض انہدامی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی علماء کونسل پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ بھارت میں مسلم مذہبی مقامات اوروقف املاک کے خلاف کارروائیوں کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور تمام مذہبی مقامات کی حفاظت کو یقینی بنایاجائے اور ان کو اصلی حالت میں واپس لایا جائے،کسی بھی مذہبی مقام کے انہدام سے قبل قانونی تقاضوں، عدالتی احکامات اور متاثرہ فریق کو موثر سماعت کا حق یقینی بنایا جائے۔مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ وقف املاک سے متعلق قانون سازی اقدامات میں مسلم برادری کے نمائندوں کی موثر شمولیت یقینی بنائی جائے۔مرکزی علما کونسل نے پاکستان کی وزارت خارجہ سے بھی مطالبہ کیا کہ ایک نمائندہ وفد تشکیل دیا جائے تاکہ وہ عالمی برادری کو موجودہ صوت حال اور بھارت میں مسلم شناخت مٹانے کے مذموم عزائم سے آگاہ کرے اور مودی حکومت کے سفاک،غیر قانونی، غیر اخلاقی، غیر انسانی اقدامات سے آگاہ کرے۔