رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران تقریباً 197 ارب روپے کے ری فنڈز جاری کئے گئے،ایف بی آر کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کوبریفنگ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران تقریباً 197 ارب روپے کے ری فنڈز جاری کئے گئے، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 157 ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے تھے

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران تقریباً 197 ارب روپے کے ری فنڈز جاری کئے گئے، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 157 ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے تھے،ایک سال کی مدت میں ریفنڈز میں تقریباً 40 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ سینٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس جمعرات کویہاں چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں ٹیکس ریفنڈز، سیلف کنسائنمنٹ سکیم کے تحت واپس آنے والے وفروخت نہ ہونے والے زیورات پر سیلز ٹیکس، بجٹ سیشن کے دوران پارلیمنٹ ہائوس میں خدمات انجام دینے والے طبی عملے کے اعزازیے اور دیگر مالیاتی و بینکاری امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹرز محمد طلحہ محمود، محمد عبدالقادر، وزیر مملکت خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بجٹ سیشن کے دوران پارلیمنٹ ہائوس میں فرائض انجام دینے والے طبی عملے کو پانچ ماہ کی بنیادی تنخواہ کے مساوی اعزازیہ دینے کا معاملہ حل کر لیا گیا ہے۔ وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ وزارت خزانہ و محصولات نے اس حوالے سے ضروری ہدایات جاری کر دی ہیں۔اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جائز انکم ٹیکس ریفنڈز روکے جانے کے معاملے کاجائزہ لیاگیا ۔متاثرہ کیمیکل کمپنی کے نمائندوں نے بتایا کہ کمپنی کے 270 ملین روپے سے زائد کے ٹیکس ریفنڈز گزشتہ چھ برس سے زیر التوا ہیں۔کمیٹی نے قرار دیا کہ ریفنڈز میں تاخیر سے کاروباری اداروں کے کیش فلو پر منفی اثر پڑتا ہے، اس لئے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا جانا چاہئے۔چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ نئے نظام کے تحت ٹیکس ریفنڈز 72 گھنٹوں کے اندر جاری کئے جانے کی توقع ہے۔ ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ مذکورہ معاملہ ایک ماہ کے اندر حل کر لیا جائے گا۔کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ متعلقہ ریفنڈز جاری کئے جائیں اور 30 روز کے اندر کمیٹی کو پیشرفت سے آگاہ کیا جائے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے ایف بی آر کو مزید ٹیکس پیئرزفرینڈلی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے گزشتہ پانچ برس کے ٹیکس ریفنڈز کی تفصیلات طلب کیں۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ صوابدیدی اختیارات میں کمی لانے کے لئے نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے اور اب ریفنڈز نظام کے تحت مقررہ ترتیب سے جاری کئے جا رہے ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیاکہ رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران تقریباً 197 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 157 ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے تھے،ایک سال کی مدت میں ریفنڈز میں تقریباً 40 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے متعلق شرط کے تحت ایف بی آر 390 ارب روپے سے زائد کے ریفنڈز اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، اس لئے ری فنڈز کو طویل عرصے تک روکے رکھنا ممکن نہیں ۔ سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ اگر کسی ٹیکس دہندہ کو دو سال بعد ریفنڈ ملتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ریفنڈ واقعی واجب الادا تھا۔ کمیٹی کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 24 جون 1999 کے فارن ایکسچینج سرکلر نمبر 16 پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں فارن کرنسی اکائونٹس پر سود/منافع کی ادائیگی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ اور ڈیپازٹرز کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات پر تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔کمیٹی کو جیولرز اینڈ جیمز ٹریڈرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے سیلف کنسائنمنٹ ایکسپورٹ سکیم کے تحت فروخت نہ ہونے والے زیورات کی واپسی پر عائد سیلز ٹیکس ختم کرنے کی درخواست پر بھی بریفنگ دی گئی۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ انٹرسٹمنٹ سکیم کے تحت فروخت نہ ہونے والے زیورات کی درآمد، مطلوبہ کسٹمز دستاویزات مکمل ہونے کے بعد، سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہے ۔۔ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے متعلقہ ایس آر او کے تحت سونے اور قیمتی پتھروں سے متعلق امور کی نشاندہی بھی کی۔ ایس آر او کی روشنی میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اس معاملے پر آئندہ اجلاس میں وزارت تجارت کو مدعو کیا جائے گا تاکہ معاملے کا جائزہ لے کر اسے باہمی مشاورت سے حل کیا جا سکے۔

مزید خبریں