دہشت گردی مزید منتشر اور غیر مربوط شکل اختیار کر رہی ہے: اقوام متحدہ
دہشت گردی مزید منتشر اور غیر مربوط شکل اختیار کر رہی ہے: اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔12ستمبر (اے پی پی): اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کی ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ دہشت گردی مزید منتشر اور غیر مربوط شکل اختیار کر رہی ہے جبکہ ٹیکنالوجی نے دہشت گردی کے خطرات کے منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹوریٹ کی سربراہ اور اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل نتالیہ گرمین نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گروہ اپنے ڈھانچے تبدیل، کارروائیوں کو غیر مرکزی اور مالی وسائل کو متنوع بنا رہے ہیں جبکہ عدم استحکام سے فائدہ اٹھا کر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں کمزور طرز حکمرانی، وسائل پر مسابقت اور مقامی شکایات سے فائدہ اٹھا کر اپنا دائرہ اثر بڑھا رہی ہیں۔ وہ مردوں اور خواتین کی مخصوص کمزوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے پیغامات اور بھرتی کی حکمت عملی ترتیب دیتی ہیں۔نتالیہ گرمین کے مطابق دہشت گرد اور منظم جرائم پیشہ گروہ سمندری راستوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو افراد، ہتھیاروں اور غیر قانونی اشیا کی نقل و حرکت کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ غیر مرکزی سیلز، ڈھیلے ڈھالے نیٹ ورکس اور تنہا حملہ آوروں کا کردار بھی بڑھ رہا ہے، جن کے پرتشدد کارروائیوں کی جانب بڑھنے کے راستے زیادہ غیر واضح اور روکنا مشکل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ نئی ٹیکنالوجی کو صرف پروپیگنڈے اور بھرتی کے لیے نہیں بلکہ حملوں کی منصوبہ بندی، معلومات اکٹھی کرنے اور مالی معاونت کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔
ڈرونز کی دستیابی، کم قیمت اور مؤثریت میں اضافے کے باعث دہشت گرد عناصر انہیں نگرانی، جاسوسی اور حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی عہدیدار نے بچوں اور نوجوانوں کی بھرتی اور استحصال کو بھی انسداد دہشت گردی کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق دہشت گرد اور پرتشدد انتہا پسند عناصر سوشل میڈیا، گیمنگ پلیٹ فارمز اور دیگر آن لائن ذرائع کے ذریعے خصوصاً نوجوانوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے انہیں بھرتی کر رہے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت اور خودکار مواد کی تیاری میں پیش رفت نے اس عمل کی رفتار، پیمانے اور درستگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورک بھی زیادہ غیر مرکزی اور ان کا سراغ لگانا مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔
نقد رقم کی ترسیل اور حوالہ جیسے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ آن لائن ادائیگیوں، کراؤڈ فنڈنگ پلیٹ فارمز، موبائل منی اور ورچوئل اثاثوں کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔نتالیہ گرمین کے مطابق متعدد دہشت گرد گروہ بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، اسمگلنگ اور قدرتی وسائل کے استحصال سمیت جرائم کے ذریعے آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی اور منظم جرائم کے باہمی تعلق کو موجودہ تنازعات کی متعدد صورتحال کی نمایاں خصوصیت قرار دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے لیے عالمی تعاون، پیشگی تیاری، یکجہتی اور روک تھام کے عزم کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔






