یمن کے شہر المخا میں حوثیوں کی جانب سے امدادی مرکز پر قبضے پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

یمن کے شہر المخا میں حوثیوں کی جانب سے امدادی مرکز پر قبضے پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

اقوام متحدہ۔12ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے یمن کے شہر المخا میں حوثیوں کی جانب سے اہم انسانی امدادی مرکز اور اس کے اثاثوں پر قبضے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نےکہا کہ مذکورہ مرکز میں اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کا عملہ موجود تھا جو علاقے کی ضرورت مند اور کمزور آبادیوں کو انسانی امداد فراہم کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز پر قبضے سے قبل تمام اہلکار وہاں سے بحفاظت منتقل ہو چکے تھے اور سب محفوظ ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسانی امدادی کارکنوں، مراکز اور اثاثوں کا ہر وقت احترام اور تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے جبکہ امداد کی بلا رکاوٹ اور محفوظ رسائی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ ضرورت مند افراد تک زندگی بچانے والی امداد پہنچتی رہے۔

فرحان حق کے مطابق علاقے میں موجود اقوام متحدہ کے 8 مقامی اہلکار قبضے سے قبل المخا سے عدن، تربہ اور تعز منتقل ہو گئے تھے، جبکہ اس وقت المخا میں اقوام متحدہ کا کوئی اہلکار موجود نہیں۔ تعز اور تربہ میں موجود تمام مقامی اہلکار محفوظ ہیں۔ ایک بین الاقوامی اہلکار بھی جمعرات کی صبح تعز سے روانہ ہو کر عدن پہنچ گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ امدادی مرکز کی بعض سہولیات، جن میں کچھ مقدار میں ایندھن بھی شامل ہے، فی الحال اقوام متحدہ کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) نے بھی یمن میں تیزی سے بگڑتی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی تشدد کی کارروائیوں سے خاندانوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

اوچا کے مطابق لڑائی سے شہری مسلسل نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں اور رواں ماہ کے آغاز سے اب تک **18 ہزار گھرانے** بے گھر ہو چکے ہیں۔ متاثرہ افراد تعز، عدن، لحج اور ابین کے گورنریٹس کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔اقوام متحدہ اور اس کے انسانی امدادی شراکت دار متاثرہ افراد کی مدد کے لیے کوششیں کر رہے ہیں تاہم رسائی اور مالی وسائل کی کمی شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ اوچا نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ شہریوں کا تحفظ، بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام اور ضرورت مند آبادیوں تک محفوظ و بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائی جائے۔