پیرس میں پاکستانی سفارتخانہ کے زیر اہتمام پاکستان میں کپاس کی کاشت کی ہزاروں سالہ تاریخ بارے کانفرنس

پیرس میں پاکستانی سفارتخانہ کے زیر اہتمام پاکستان میں کپاس کی کاشت کی ہزاروں سالہ تاریخ بارے کانفرنس

پیرس ۔12ستمبر (اے پی پی):پاکستان کے سفارت خانے میں ’’سوتی دھاگہ: پاکستان میں کپاس ثقافت کی ہزاروں سالہ تاریخ‘‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد کی گئی جس میں سفارت کاروں، یونیسکو کے حکام، فرانسیسی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے نمائندوں اور فیشن ڈیزائنرز نے شرکت کی تاکہ پاکستان میں کپاس کی کاشت کی طویل تاریخ اور اس کے عالمی فیشن انڈسٹری میں ڈھلنے کے سفر کا جائزہ لیا جا سکے۔

پاکستانی سفارتخانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تقریب سےخطاب کرتے ہوئے سفیر ممتاز زہرا بلوچ نے پاکستان کے قدیم خطے میں کپاس کی تاریخ کا احاطہ کیا جس کا آغاز تقریباً 7 ہزار سال قبل اس کی دریافت سے ہوا۔ انہوں نے ٹیکسٹائل کی روایت کی تخلیق اور عالمی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بنیاد رکھنے میں خطے کے کسانوں، سوت کاتنے اور بننے والوں کے کردار کو اجاگر کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جب کپاس نے براعظموں کا سفر کیا تو یہ اپنے ساتھ نہ صرف ایک قیمتی جنس لے کر گئی بلکہ علم، ہنرمندی اور ثقافتی تبادلے کا ذریعہ بھی بنی۔سفیر نے وضاحت کی کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات پاکستان کے مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے شعبوں کا اہم جزو ہیں اور فیصل آباد کی اسپننگ ملز سے لے کر کراچی اور لاہور کے ایکسپورٹ ہاؤسز تک، ملک کی صنعتی افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ اس شعبے سے وابستہ ہے تاہم پاکستان کے لیے کپاس محض ایک زرعی فصل یا تجارتی شے نہیں ہے۔ یہ سوت کاتنے، بُنائی، کڑھائی اور ٹیکسٹائل کی ہنرمندی کی صدیوں پرانی روایات کے ذریعے پاکستان کے ثقافتی ورثے میں بھی گہرائی سے رچی بسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ زندہ روایات اس "غیر مادی ثقافتی ورثے”کا حصہ ہیں جن کے تحفظ کے لیے یونیسکو کوشاں ہے یعنی وہ علم، مہارتیں اور ہنرمندی جو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی ہیں۔

میسرز "سنبرگ ” کی بانی اور "سرکل ڈیس امیز ڈو پاکستان” گروپ کی صدر، فریڈریکا سنڈبرگ نے پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبہ کے بارے میں اپنی مہارت اور معلومات کا اظہار کیا۔ انہوں نے وادی سندھ میں کپاس کی تاریخی ابتدا سے لے کر آج کی ٹیکسٹائل انڈسٹری تک پاکستان میں کپاس کی ہزاروں پرانی تاریخ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ٹیکسٹائل کی صنعت میں پاکستان کی برآمدی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا۔ ماہرِ آثارِ قدیمہ اور وادی سندھ میں فرانسیسی آثارِ قدیمہ مشن کی سابقہ ​​شریک ڈائریکٹر، کیتھرین جیرج نے قدیم پاکستان میں کپاس کی کاشت کے شواہد پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آثارِ قدیمہ کی دریافتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب میں 7000 سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل کپاس کاشت کی جاتی تھی اور اس سے سوت کاتنے اور کپڑا بُننے کا کام لیا جاتا تھا۔ یہ تقریب سفارت خانے کی عوامی اور اقتصادی سفارت کاری کے سلسلے میں منعقد کی گئی تھی جس کا مقصد کپاس کی کاشت اور ٹیکسٹائل کی صنعت کے ساتھ پاکستان کے تاریخی اور عصری روابط نیز ملکی معیشت میں ان کی مرکزی حیثیت کو اجاگر کرنا تھا۔