بیجنگ میں پاکستان کے سفارت خانے، پاکستان سینٹر فار کلچر اینڈ کمیونیکیشن اور سنگھوا یونیورسٹی کے اسکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن نے پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ایک اہم کتاب ’’سندھ اور یانگ زے: ایک ہی سرچشمے سے نکلنے والے دو دریاؤں کا سفر‘‘ کی تقریبِ رونمائی کا مشترکہ طور پر انعقاد کیا
پاک چین دوستی کی 75ویں سالگرہ پر تاریخی کتاب’’سندھ اور یانگ زے: ایک ہی سرچشمے سے نکلنے والے دو دریاؤں کا سفر‘‘ کی رونمائی

مزید خبریں
بیجنگ۔13ستمبر (اے پی پی):بیجنگ میں پاکستان کے سفارت خانے، پاکستان سینٹر فار کلچر اینڈ کمیونیکیشن اور سنگھوا یونیورسٹی کے اسکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن نے پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ایک اہم کتاب ’’سندھ اور یانگ زے: ایک ہی سرچشمے سے نکلنے والے دو دریاؤں کا سفر‘‘ کی تقریبِ رونمائی کا مشترکہ طور پر انعقاد کیا۔تقریب میں کتاب کی رونمائی کے علاوہ پاکستان سے متعلق نمایاں تحقیقی کام، ’’قراقرم ہائی وے کے معماروں کی زبانی تاریخ‘‘، دریائے یارکند کی وادی کے قدیم راستوں پر تحقیق اور متعلقہ دستاویزی فلموں کی پریزنٹیشنز بھی پیش کی گئیں ۔ پاکستانی سفارتخانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی، سماجی اور فکری روابط کو اجاگر کرنے کے حامل ان حالیہ تحقیقی اور ثقافتی اقدامات کی تقریب میں چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کے علاوہ ممتاز اسکالرز، محققین، سفارت کاروں، ماہرین تعلیم، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔

کتاب ’’سندھ اور یانگ زے: ایک ہی سرچشمے سے نکلنے والے دو دریاؤں کا سفر‘‘، جس کی تدوین سنگھوا یونیورسٹی کے اسکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن کے سابق ایگزیکٹو وائس ڈین پروفیسر لی شی گوانگ اور یونیورسٹی آف پشاور کے سابق وائس چانسلر پروفیسر زاہد انور نے کی ، انگریزی، اردو اور چینی زبانوں میں پیش کی گئی ہے۔کتاب کے مدیران نے وادیٔ سندھ اور دریائے یانگ زے کے طاس سے وابستہ تہذیبوں کے درمیان مشترکہ تاریخی اور ثقافتی روابط کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ علمی تحقیق پاکستان اور چین کے عوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تقریب میں ڈاکٹر وین سان مئی اور ڈاکٹر لیو بے نے بھی اپنی تحقیقات پیش کیں۔ ان کے تحقیقی کام نے چینی جامعات اور تحقیقی اداروں میں پاکستان سے متعلق علمی تحقیق کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار اور تنوع کو نمایاں کیا ہے۔ تقریب کی ایک اور اہم خصوصیت ’’قراقرم ہائی وے کے معماروں کی زبانی تاریخ‘‘ کے عنوان سے تحقیقی منصوبے کی پریزنٹیشن تھی۔

لیکچرر ژانگ جِنگ نے اس شاہراہ کی تعمیر میں حصہ لینے والے افراد کے تجربات اور انٹرویوز پر مبنی تحقیق پیش کی۔ اس سے متعلق دستاویزی فلم کے اقتباسات نے ان افراد کی ذاتی داستانوں کو مزید مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی روابط پر تحقیق کو ’’دریائے یارکند کی وادی: پاکستان تک قدیم راستے کی تلاش‘‘ کے منصوبے کے ذریعے بھی پیش کیا گیا، جسے پروفیسر گوو ژیاؤکے اور لی ژینیوان نے پیش کیا۔ اس منصوبے میں فیلڈ ریسرچ، تاریخی تحقیق اور دستاویزی فلم سازی کو یکجا کرتے ہوئے دونوں خطوں کو ملانے والے قدیم راستوں اور افکار کا جائزہ لیا گیا ہے۔پروفیسر لی شی گوانگ نے پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی روابط پر مزید تحقیق بھی پیش کی، جس میں ’’مملکت اُدیانہ کی جانب دھرما کی تلاش میں مغرب کی سمت سفر‘‘ کے عنوان سے تحقیق شامل تھی جس میں وسطی اور جنوبی ایشیا میں ثقافتی روابط اور انسانی نقل و حرکت کی طویل تاریخ کو اجاگر کیا گیا۔مکالمے میں سنگھوا یونیورسٹی کے اسکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن کے پارٹی سیکرٹری شی ان بن، یانگ زے ریور کلچر پروموشن ایسوسی ایشن کے سینئر مشیر اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل یاؤ یوان جون، ژانگ ہہ چنگ، بیجنگ فارن اسٹڈیز یونیورسٹی کے پروفیسر ژیانگ دے باؤ، کمیونیکیشن یونیورسٹی آف چائنا کے پروفیسر گوو ژیاؤکے، نانکائی یونیورسٹی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر چن روئی ہوا، سچوان یونیورسٹی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ژانگ چاؤ وین اور ہیبے نارمل یونیورسٹی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر کی ڈائریکٹر گوو یالنگ سمیت سینئر ماہرین تعلیم نے بھی اظہار خیال کیا۔
سی آئی ٹی آئی سی فاؤنڈیشن فار ریفارم اینڈ ڈیویلپمنٹ اسٹڈیز، یانگ زے ریور کلچر پروموشن ایسوسی ایشن، سنگھوا یونیورسٹی اور دیگر علمی و ثقافتی اداروں کے نمائندوں نے بھی تبادلہ خیال کیا۔چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے اپنے کلیدی خطاب میں ’’سندھ اور یانگ زے: ایک ہی سرچشمے سے نکلنے والے دو دریاؤں کا سفر‘‘ کے عنوان سے کثیراللسانی کتاب کی انگریزی، چینی اور اردو زبانوں میں اشاعت کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے پروفیسر لی شی گوانگ، پروفیسر زاہد انور، ان کی ٹیموں اور دیگر شریک محققین کو دریائی نظاموں سے وابستہ جغرافیائی، تاریخی، اقتصادی اور ثقافتی روابط پر وسیع تحقیق کرنے پر سراہا۔ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر خلیل ہاشمی نے دونوں ممالک کی دیرپا دوستی اور علمی، ثقافتی اور عوامی روابط کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے دوطرفہ شراکت داری کے تین اہم پہلوؤں، یعنی حکومت سے حکومت، کاروبار سے کاروبار اور عوام سے عوام کے درمیان تعاون پر روشنی ڈالی۔سفیر خلیل ہاشمی نے جامعات کے درمیان تعاون، طلبہ اور اساتذہ کے تبادلوں، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں تعاون، زبانوں کی تعلیم اور ثقافتی روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات صرف سفارتی اور اقتصادی تعاون تک محدود نہیں بلکہ ان میں گہرے تاریخی، ثقافتی، تعلیمی اور عوامی روابط بھی شامل ہیں۔علمی تحقیق، زبانی تاریخ، دستاویزی کہانیوں اور عصری علمی مکالمے کو یکجا کرتے ہوئے اس تقریب کا مقصد مشترکہ یادوں کو محفوظ کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان نیا فکری رابطہ استوار کرنا تھا۔یادگاری پروگرام کا اختتام پاکستانی کھانوں پر مشتمل عشائیے پر ہوا جس نے شرکاء کو غیر رسمی تبادلہ خیال اور ثقافتی روابط کو مزید فروغ دینے کا موقع فراہم کیا۔








