چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ نئے عدالتی سال میں مقدمات کے جلد اور مؤثر فیصلوں کے ساتھ بہتر کیس مینجمنٹ، شفافیت، ڈیجیٹل نظام اور عوام کو بہتر عدالتی خدمات کی فراہمی پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی،عدالتی اصلاحات کے تحت 8 شعبوں میں 86 اقدامات کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں سے 65 مکمل، 8 پر کام جاری جبکہ 13 اقدامات پر مزید توجہ …
نئے عدالتی سال میں بہتر کیس مینجمنٹ اور ڈیجیٹل نظام پر توجہ مرکوز رکھیں گے،86 اصلاحاتی اقدامات میں سے 65 مکمل ہو چکے ہیں، چیف جسٹس پاکستان

مزید خبریں
اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ نئے عدالتی سال میں مقدمات کے جلد اور مؤثر فیصلوں کے ساتھ بہتر کیس مینجمنٹ، شفافیت، ڈیجیٹل نظام اور عوام کو بہتر عدالتی خدمات کی فراہمی پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی،عدالتی اصلاحات کے تحت 8 شعبوں میں 86 اقدامات کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں سے 65 مکمل، 8 پر کام جاری جبکہ 13 اقدامات پر مزید توجہ درکار ہے۔
پیر کونئے عدالتی سال کے آغاز کے موقع پرفل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کا بنیادی مقصد بہتر انصاف کی فراہمی ہے، آزاد عدلیہ کے ساتھ ادارے کی اپنی کارکردگی کا جائزہ، خامیوں کی نشاندہی اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال عدالتی اصلاحات کے پانچ بنیادی ستون متعین کیے گئے تھے جن میں ٹیکنالوجی کے ذریعے خدمات کی بہتری، انصاف تک رسائی اور شفافیت میں اضافہ، قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانا، قومی و بین الاقوامی وسائل سے استفادہ اور نظام انصاف سے منسلک اداروں کی فعالیت شامل تھی۔چیف جسٹس نے بتایا کہ اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت 8 شعبوں میں 86 اقدامات کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 65 مکمل ہو چکے ہیں، 8 اقدامات پرپیش رفت جاری ہے جبکہ 13 اقدامات پر مزید توجہ درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کاغذ پر انحصار کرنے والے نظام سے بتدریج ڈیجیٹل نظام کی جانب بڑھ رہی ہے، تمام زیر التوا اور نئے دائر ہونے والے مقدمات، جیل درخواستوں کے علاوہ، ڈیجیٹل کیے جا رہے ہیں، مقدمات کی درجہ بندی اور بار کوڈنگ کی جا رہی ہے جبکہ تمام احکامات اور فیصلے سائلین اور وکلا کو الیکٹرانک طریقے سے بھجوائے جا رہے ہیں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اندرونی انتظامی خط و کتابت بھی ای آفس نظام پر منتقل ہو چکی ہے۔ عدالت میں تمام درخواستوں کی ای فائلنگ اور پیپر لیس عدالتوں کے قیام کے لیے نظام تیار کر لیا گیا ہے، تاہم ڈیجیٹل ڈیٹا میں اضافے کے باعث محفوظ ذخیرے اور سائبر سکیورٹی کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں صرف ڈیجیٹلائزیشن کافی نہیں بلکہ نظام کو باہم مربوط کرنا ہوگا تاکہ عدالتی نظام کے مختلف حصوں کے درمیان معلومات محفوظ اور مؤثر انداز میں منتقل ہو سکیں، رازداری، ڈیٹا کے تحفظ اور عدالتی آزادی کے تقاضوں کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ قومی سطح پر یکساں ای فائلنگ فریم ورک کے لیے تمام صوبوں اور اسلام آباد کی بار کونسلز سے رابطہ کیا گیا ہے اور تجویز قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے سامنے بھی رکھی گئی ہےجس کا مقصد سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ضلعی عدلیہ میں الیکٹرانک فائلنگ کا یکساں نظام قائم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی سہولت مرکز، ڈیجیٹل رابطہ کاری، شکایات اور آرا کے منظم نظام اور سائلین، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور میڈیا کے لیے بہتر سہولیات کے ذریعے عدالت تک رسائی آسان بنائی گئی ہے۔ لاہور رجسٹری میں بھی عوامی سہولت مرکز نومبر کے وسط تک قائم کر دیا جائے گا۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ زیر التوا مقدمات میں کمی اور اہم مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے حوالے سے بھی نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں۔ موت کی سزاؤں کے مقدمات میں عدالت اکتوبر 2024 میں 2015 کے مقدمات سن رہی تھی جبکہ 14 ستمبر 2026 تک 2026 میں دائر مقدمات تک پہنچ چکی ہے، اس عرصے میں 613 اپیلیں نمٹائی گئیں اور 2026 کی صرف 31 اپیلیں زیر التوا رہ گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتاری سے قبل ضمانت کے مقدمات میں عدالت 2016 کے مقدمات سے 2026 کے مقدمات تک پہنچ گئی، اس دوران 2,972 درخواستیں نمٹائی گئیں اور 2026 کی 115 درخواستیں زیر التوا ہیں۔ گرفتاری کے بعد ضمانت کے مقدمات میں بھی 2009 کے مقدمات سے 2026 تک پیش رفت ہوئی اور 2,926 درخواستیں نمٹائی گئیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عائلی مقدمات میں بھی عدالت 2010 کے مقدمات سے 2026 کے مقدمات تک پہنچ چکی ہے اور 1,752 مقدمات نمٹائے گئے۔ ٹیکس مقدمات میں 691 مقدمات کا فیصلہ ہوا جبکہ کرایہ داری کے مقدمات میں زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہو کر 133 رہ گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سروس مقدمات میں عدالت 2009 کے مقدمات سے 2019 کے مقدمات تک پہنچ چکی ہے اور اس دوران 4,302 مقدمات نمٹائے گئے، جبکہ 3,660 مقدمات زیر التوا ہیں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ مقدمات کے بروقت فیصلوں کے لیے عدالتی دفتر، بنچ اور بار تینوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
دفتر درست درجہ بندی اور بروقت مقدمات مقرر کرنے کو یقینی بنائے، بنچ سماعت کو مؤثر بنائے جبکہ وکلا مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہوں اور غیر ضروری التوا سے گریز کریں۔انہوں نے بتایا کہ گرمیوں کی تعطیلات میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے لیے ایک ماہ کی تعطیلات رکھی گئیں، تاہم اس دوران بھی مقدمات کی سماعت جاری رہی اور ایک روز میں 202 مقدمات کے فیصلے کیے گئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمات کی فکسنگ پالیسی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہے جس کے تحت 40 فیصد پرانے مقدمات شامل کیے جاتے ہیں جبکہ باری سے ہٹ کر مقدمات مقرر کرنے میں صوابدید ختم کرکے نگرانی کا نظام وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت میں مختلف نوعیت کے مقدمات کے لیے زیادہ منظم بنچ تشکیل دینے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، جس میں فوری نوعیت کے مقدمات، قبل از وقت سماعت کے مقدمات، کارپوریٹ و تجارتی اور مالیاتی مقدمات، دیوانی و وراثتی مقدمات اور سروس و لیبر مقدمات کے لیے خصوصی توجہ شامل ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہر تنازعہ کا اختتام فیصلے پر ہونا ضروری نہیں، کئی معاملات میں منصفانہ اور بروقت تصفیہ تمام فریقین کے لیے بہتر نتیجہ ثابت ہو سکتا ہے، اسی لیے گزشتہ سال ثالثی اور متبادل تنازعاتی حل کے نظام پر خصوصی توجہ دی گئی اور عدالت سے منسلک ثالثی کے طریقہ کار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے بار اور بنچ کے باہمی تعاون کو نظام انصاف کے لیے بنیادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وکلا عدالتی نظام کے بیرونی نہیں بلکہ اس کے لازمی حصہ ہیں۔
مقدمات کی مؤثر سماعت، مکمل تیاری، غیر ضروری التوا سے گریز اور عدالتی وقت کے مؤثر استعمال کے لیے بار کا تعاون ناگزیر ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ نیا عدالتی سال صرف زیادہ مقدمات نمٹانے کا نہیں بلکہ بہتر کیس مینجمنٹ، بہتر خدمات، زیادہ پیش گوئی اور قابل پیمائش ادارہ جاتی بہتری کا سال ہونا چاہیے۔ عدلیہ کی کامیابی صرف فیصلوں کی تعداد سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، انصاف اور ہر شہری کو عزت و وقار کے ساتھ سنے جانے کی یقین دہانی سے بھی جانچی جانی چاہیے۔








