چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی اصلاحات کا بنیادی مقصد بہتر انصاف کی فراہمی ہے، آزاد عدلیہ کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب بھی ضروری ہے
عدالتی اصلاحات کا مقصد بہتر انصاف، آزاد عدلیہ کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب ضروری ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی اصلاحات کا بنیادی مقصد بہتر انصاف کی فراہمی ہے، آزاد عدلیہ کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب بھی ضروری ہے، نئے عدالتی سال میں تیز تر انصاف، موثر کیس مینجمنٹ، بہتر عوامی سہولیات، ڈیجیٹل نظام اور قابل پیمائش ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال 2026-27 کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی اصلاحاتی حکمت عملی پانچ بنیادی ستونوں پر استوار ہے جن میں ٹیکنالوجی کے ذریعے خدمات کی فراہمی، رسائی اور شفافیت، قانونی و ضابطہ جاتی نظام کا استحکام، قومی و بین الاقوامی وسائل سے استفادہ اور شعبہ انصاف کے اداروں کی بحالی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اصلاحات کے آٹھ شعبوں میں مجموعی طور پر 86 اقدامات میں سے 65 مکمل کر لیے گئے ہیں، 8 پر کام مقررہ رفتار کے مطابق جاری ہے جبکہ 13 اقدامات پر مزید توجہ درکار ہے۔چیف جسٹس نے عدالت عظمیٰ میں ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے بتایا کہ زیر التوا اور نئے مقدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اور بار کوڈنگ، احکامات اور فیصلوں کی الیکٹرانک ترسیل، ای آفس، کاغذ سے پاک عدالتی نظام اور ای فائلنگ پر پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اصلاحات کے اگلے مرحلے میں محض ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کے بجائے مربوط اور باہم منسلک ڈیجیٹل نظام انصاف تشکیل دینا ہوگا جس کے لیے مضبوط ڈیٹا انفراسٹرکچر اور موثر سائبر سکیورٹی ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ضلعی عدلیہ میں فائلنگ کے طریقہ کار میں یکسانیت لانے کے لیے قومی معیاری ای فائلنگ فریم ورک پر بھی کام جاری ہے جس کا مقصد وکلا اور سائلین کے لیے مقدمات دائر کرنے کا عمل آسان اور قابل پیش گوئی بنانا ہے۔ صوبائی بار کونسلز اور اسلام آباد بار کونسل کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا ہے جبکہ تجویز قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے سامنے پیش کی جا چکی ہے۔
چیف جسٹس نے عوام کو عدالتی خدمات تک بہتر رسائی کے حوالے سے بتایا کہ پبلک فسیلیٹیشن سنٹر کو مضبوط بنایا گیا ہے، ڈیجیٹل رابطہ کاری، منظم شکایتی و فیڈ بیک نظام اور سائلین، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور میڈیا کے لیے سہولیات میں بہتری لائی گئی ہے۔ لاہور رجسٹری میں پبلک فسیلیٹیشن سینٹر نومبر کے وسط تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے آئی ایس او سرٹیفکیشن کے تقاضے بھی مکمل کر لیے ہیں جو معیاری خدمات اور بہتر انتظامی نظام کے عزم کا عکاس ہے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ رسائی انصاف ترقیاتی فنڈ کے تحت ملک بھر کی عدالتوں اور بار رومز کو بلاتعطل بجلی یا شمسی توانائی، خواتین کے لیے سہولیات، ای لائبریریاں، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور صاف پینے کے پانی کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ بلوچستان کے 12 اضلاع میں سکیورٹی صورتحال کے باعث عملدرآمد متاثر ہے جبکہ دیگر علاقوں میں منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔کیس مینجمنٹ کے حوالے سے چیف جسٹس نے بتایا کہ ترجیحی نوعیت کے مقدمات نمٹانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ سزائے موت کی اپیلوں میں عدالت 2015ء سے 2026ء تک کے مقدمات تک پہنچ گئی ہے اور 613 اپیلیں نمٹائی جا چکی ہیں جبکہ 2026ء کی صرف 31 اپیلیں باقی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کے مقدمات میں 2016ء سے 2026ء تک پیش رفت ہوئی اور 2,972 درخواستیں نمٹائی گئیں جبکہ 2026ء کی 115 درخواستیں باقی ہیں۔ ضمانت بعد از گرفتاری کے مقدمات میں 2009ء سے 2026ء تک پیش رفت کرتے ہوئے 2,926 درخواستیں نمٹائی گئیں اور 2026ء کے 185 مقدمات باقی ہیں۔
چیف جسٹس کے مطابق خاندانی مقدمات میں 2010ء سے 2026ء تک کے عرصے میں 1,752 مقدمات نمٹائے گئے جبکہ 369 مقدمات زیر التوا ہیں جن میں 310 مقدمات 2026ء میں دائر ہوئے۔ٹیکس مقدمات میں 2011ء سے 2021ء تک پیش رفت ہوئی اور 691 مقدمات نمٹائے گئے جبکہ 1,044 مقدمات باقی ہیں جن میں 2025ء اور 2026ء میں دائر ہونے والے 876 مقدمات شامل ہیں۔کرایہ داری کے مقدمات کی زیر التواء تعداد کم ہو کر 133 رہ گئی ہے جن میں 2025ء کے 23 اور 2026ء کے 110 مقدمات شامل ہیں۔ سروس مقدمات میں 4,302 مقدمات نمٹائے گئے جبکہ 3,660 مقدمات باقی ہیں جن میں 2025ء اور 2026ء کے دوران دائر کیے گئے 2,115 مقدمات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ موثر کیس مینجمنٹ کے لیے عدالت کے دفتر، بنچ اور بار کے درمیان قریبی رابطہ ضروری ہے، خصوصاً مقدمات کی درست درجہ بندی، بروقت سماعت، موثر سماعتی انتظام اور غیر ضروری التواء سے گریز پر توجہ دینا ہوگی۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ 40 فیصد پرانے مقدمات کی سماعت مقرر کی گئی، باری سے ہٹ کر مقدمات مقرر کرنے میں صوابدید کا خاتمہ کیا گیا اور ایک روز میں 202 مقدمات نمٹائے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ رجسٹرار روزانہ صبح 11 بجے پبلک فسیلیٹیشن سینٹر میں موجود رہتے ہیں تاکہ سائلین کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ وقت کی پابندی والے، جلد سماعت کے متقاضی، کارپوریٹ، تجارتی، مالی، سول، سروس اور لیبر مقدمات کے لیے منظم بنچ تشکیل دیئے جا رہے ہیں تاکہ مقدمات کو ان کی نوعیت، عجلت اور ترجیح کے مطابق نمٹایا جا سکے۔چیف جسٹس نے ثالثی اور متبادل تنازعاتی حل کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر تنازع کا اختتام عدالتی فیصلے پر ہونا ضروری نہیں، عدالت سے منسلک ثالثی کے ذریعے مناسب مقدمات میں فریقین کو تنازعات کے منصفانہ، بروقت اور موثر حل کا موقع فراہم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے سپریم کورٹ کے بین الاقوامی عدالتی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ چین کی سپریم پیپلز کورٹ اور ترکیہ کی آئینی عدالت کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں سمیت مختلف عدالتی اداروں کے ساتھ تعاون جاری ہے جبکہ کوریا، آذربائیجان، ترکیہ، برطانیہ، روس، سنگاپور، ملائیشیا اور امریکا کے عدالتی اداروں کے ساتھ مزید تعاون پر بھی کام ہو رہا ہے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ ان اقدامات کے تحت 4 تکنیکی افسران کو ترکیہ اور 5 کو چین بھیجا گیا جبکہ ضلعی عدلیہ کے 12 عدالتی افسران نے ترکیہ اور 31 نے چین کا دورہ کر کے پیشہ ورانہ تربیت اور تجربات سے استفادہ کیا۔اٹارنی جنرل پاکستان نے سپریم کورٹ کی جانب سے زیر التواء مقدمات میں کمی اور عدالتی نظام کو جدید بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا اور کیس مینجمنٹ، ڈیجیٹلائزیشن، ای فائلنگ، ویڈیو لنک سماعتوں، عوامی سہولیات، جیل اصلاحات اور متبادل تنازعاتی حل کے شعبوں میں پیش رفت کو قابل تحسین قرار دیا۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی نے بھی کیس مینجمنٹ، ای فائلنگ، پبلک فسیلیٹیشن، ویڈیو لنک سہولیات اور زیر التواء مقدمات میں کمی کے اقدامات کو سراہا اور بروقت انصاف، متبادل تنازعاتی حل اور بنچ و بار کے تعمیری رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ہارون الرشید نے بھی فسیلیٹیشن سنٹرز، ای فائلنگ، ڈیجیٹلائزیشن اور کیس مینجمنٹ میں بہتری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی اور تکنیکی اصلاحات کا حتمی مقصد سائلین کو بروقت، کم خرچ اور موثر انصاف کی فراہمی ہونا چاہیے۔چیف جسٹس نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ نئے عدالتی سال 2026-27 کو بہتر کیس مینجمنٹ، بہتر خدمات، زیادہ پیش گوئی اور قابل پیمائش ادارہ جاتی بہتری کے سال کے طور پر آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی اصل کامیابی اس اعتماد میں ہے جو اسے عوام سے حاصل ہو، اس انصاف میں ہے جسے وہ یقینی بنائے اور اس یقین دہانی میں ہے کہ ہر شہری کو سنا جائے گا، عزت دی جائے گی اور انصاف فراہم کیا جائے گا۔








