وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم: پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی، بائیک و رکشہ کیلئے ماہانہ 20 اور 800 سی سی گاڑیوں کیلئے 30 لیٹر پیٹرول دیا جائے گا، بائیک ،رکشہ یا گاڑی کی ملکیت کی شرط ختم، استعمال کرنے والے اہل ہونگے ۔شزہ فاطمہ
وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم: پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی، بائیک و رکشہ کیلئے ماہانہ 20 اور 800 سی سی گاڑیوں کیلئے 30 لیٹر پیٹرول دیا جائے گا، بائیک ،رکشہ یا گاڑی کی ملکیت کی شرط ختم، استعمال کرنے والے اہل ہونگے ۔شزہ فاطمہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی خصوصی پیٹرول ریلیف اسکیم کو اہل گاڑی مالکان اور صارفین کی سہولت کے لیے ازسرنو مرتب کیا گیا ہے، جس میں روزگار کے لیے استعمال ہونے والے موٹر سائیکلوں اور رکشوں کا استعمال کرنے والے محنت کشوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے ۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے پروگرام کے گزشتہ مرحلے کے تجربات کا جائزہ لے کر عوام کے لیے رجسٹریشن کا طریقہ کار آسان بنایا ہے، کیونکہ پچھلے مرحلے میں صرف مالکان کے نام پر موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہونے کی شرط کے باعث رجسٹریشن کی شرح انتہائی کم رہی تھی۔
شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ روزگار کے لیے کرائے کی موٹر سائیکلیں اور رکشے چلانے والوں کے لیے اب گاڑی کی ملکیت لازمی شرط نہیں ہوگی، البتہ 800 سی سی گاڑی پر رعایت حاصل کرنے کے لیے ملکیت ہونا ضروری ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ملک میں متعدد گاڑیاں اوپن ٹرانسفر لیٹر پر چل رہی ہیں جبکہ کئی گاڑیاں خرید کر اہلخانہ یا عملے کے حوالے کر دی جاتی ہیں، اسی طرح بڑی تعداد میں محنت کش اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے کرائے کے رکشے اور بائیکس چلاتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے پروگرام کا تفصیلی جائزہ لے کر واضح ہدایت دی ہے کہ عوام کو ریلیف کے حصول سے غیر ضروری طور پر محروم نہ رکھا جائے، تاہم عوامی فنڈز کے غلط استعمال کو روکنے اور اصل حقداروں کے تحفظ کے لیے بنیادی تصدیقی تقاضے برقرار رکھے گئے ہیں۔موجودہ طریقہ کار کے تحت درخواست دہندگان کو 9771 پر چار بنیادی معلومات بھیجنا ہوں گی جن میں شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کی نمبر پلیٹ، رجسٹریشن کا صوبہ اور رجسٹریشن کی تاریخ شامل ہے۔
شزہ فاطمہ نے بتایا کہ پہلی تصدیق سے یہ معلوم کیا جائے گا کہ جس سم سے میسج بھیجا گیا ہے وہ اسی شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ ہے یا نہیں، تاکہ کوئی شخص کسی اور کے شناختی کارڈ پر ٹوکن جاری نہ کرا سکے۔ دوسری تصدیق گاڑی کی نمبر پلیٹ، صوبے اور تاریخ کی ہوگی؛ چونکہ ہر صوبے کا ایکسائز ڈیپارٹمنٹ اور اسلام آباد، آزاد کشمیر و گلگت بلتستان اپنی رجسٹریشن کا الگ ڈیٹا رکھتے ہیں اس لیے ایک ہی نمبر مختلف صوبوں میں ہو سکتا ہے، چنانچہ صوبے کی درست نشاندہی ضروری ہے تاکہ ڈیٹا متعلقہ محکمے سے فوری تصدیق ہو سکے۔اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان و صارفین کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت فراہم کی جائے گی۔ موٹر سائیکل اور چنگچی کے لیے ماہانہ 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر رعایتی کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔
رجسٹریشن کے لیے شہریوں کو اپنے نام پر رجسٹرڈ سم سے بغیر ڈیش کے شناختی کارڈ نمبر، بغیر اسپیس یا ڈیش کے گاڑی کا نمبر، صوبائی کوڈ اور رجسٹریشن کی تاریخ لکھ کر REG کے ساتھ 9771 پر ایس ایم ایس بھیجنا ہوگا۔ رجسٹریشن کی تصدیق کے بعد جب بھی پیٹرول لینا مقصود ہو تو شہری 9771 پر TOK لکھ کر ایندھن کا ٹوکن حاصل کرے گا، جسے پیٹرول پمپ پر دکھا کر تصدیق کے بعد رعایتی ایندھن فراہم کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے اعتراف کیا کہ ابتدائی طور پر ڈیٹا درج کرنے میں شہریوں کو کچھ دشواری پیش آ سکتی ہے، لیکن بوگس رجسٹریشن اور دوسروں کی گاڑیوں پر ریلیف کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے یہ جانچ پڑتال ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسکیم کا ڈیجیٹل طریقہ کار اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ شہریوں کو انٹرنیٹ یا اسمارٹ فون کی ضرورت نہ پڑے، بلکہ سادہ ایس ایم ایس کے ذریعے عام فون رکھنے والے افراد بھی یکساں مستفید ہو سکیں۔ اس کے علاوہ پمپس پر کسی بھی تکنیکی یا کنیکٹیویٹی کے مسئلے کو فوری حل کرنے کے لیے ایک مخصوص ہیلپ لائن اور وزارت پیٹرولیم کے تعاون سے علاحدہ کال سینٹر بھی مکمل فعال کر دیا گیا ہے۔







