عوام کو مہنگائی سے بچانے کیلئے فی لیٹر 100 روپے پیٹرول سبسڈی کا بڑا ریلیف پیکیج لائے ہیں، ماہانہ سبسڈی 25 سے 30 ارب تک ہوگی ، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک

عوام کو مہنگائی سے بچانے کیلئے فی لیٹر 100 روپے پیٹرول سبسڈی کا بڑا ریلیف پیکیج لائے ہیں، ماہانہ سبسڈی 25 سے 30 ارب تک ہوگی ، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک

اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور خطے میں جنگی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں 64 ڈالر سے بڑھ کر 104 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں مگر درآمدی ایندھن پر انحصار اور شدید مالیاتی دباؤ کے باوجود حکومت نے عام آدمی پر بوجھ ڈالنے کے بجائے فی لیٹر 100 روپے کی براہِ راست کیش سبسڈی فراہم کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے، قومی خزانے پر بھاری مالی بوجھ کے باوجود وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر سبسڈی کی یہ خطیر رقم ٹارگٹڈ انداز میں مختص کی گئی ہے تاکہ موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک گاڑی چلانے والے محنت کش اور سفید پوش طبقات کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں کے براہِ راست اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل مسلسل مہنگا ہونے کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجبوری کے تحت اضافہ کرنا پڑتا ہے جس کا سامنا پوری دنیا کو ہے تاہم پاکستان کی حکومت نے اپنے محدود وسائل میں توازن قائم کرتے ہوئے ٹو ویلرز، تھری ویلرز اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے یہ ریلیف سکیم باقاعدہ لانچ کی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ اسکیم کے تلخ تجربات سے سیکھتے ہوئے اس بار رجسٹریشن کی شرائط کو انتہائی آسان بنایا گیا ہے،ماضی میں صرف گاڑی اور موٹرسائیکل کے اصل مالکان کو رجسٹر کیا گیا تھا جس کے باعث رجسٹریشن کا تناسب انتہائی کم رہا کیونکہ ملک میں بیشتر لوگ اوپن ٹرانسفر لیٹرز پر گاڑیاں چلاتے ہیں یا ایک بھائی دوسرے کی بائیک استعمال کرتا ہے اور محنت کش رکشے و موٹر سائیکلیں کرائے پر لے کر روزی کماتے ہیں، اس لیے اب گاڑی کے اصل مالک کی بجائے اسے چلانے والے صارف کو بھی سبسڈی حاصل کرنے کا مکمل حق دے دیا گیا ہے۔

علی پرویز ملک نے سبسڈی کے شفاف اور فول پروف طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قومی خزانے اور عوامی پیسے کے تحفظ کے لیے سسٹم میں بنیادی تصدیقی چیکس رکھے گئے ہیں تاکہ کوئی غیر متعلقہ شخص کسی کا حق نہ مار سکے۔ شہری اپنے نام پر رجسٹرڈ موبائل سم سے 9771 پر چار بنیادی معلومات بھیج کر باآسانی رجسٹر ہو سکتے ہیں جن میں شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کی نمبر پلیٹ، وہ صوبہ جہاں گاڑی رجسٹرڈ ہے اور گاڑی یا بائیک کی رجسٹریشن کی تاریخ شامل ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ درخواست گزار کے اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ موبائل نمبر کی تصدیق اس لیے لازمی رکھی گئی ہے تاکہ کوئی شخص کسی دوسرے کا شناختی کارڈ استعمال کر کے فیول ٹوکن چوری نہ کر سکے جبکہ متعلقہ صوبے اور رجسٹریشن کی تاریخ کا اندراج اس لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ ہر صوبے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا ایکسائز ڈیٹا الگ الگ ہے اور رجسٹریشن کی درست تاریخ کا ہونا اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ صارف کے پاس گاڑی کے اصل دستاویزات موجود ہیں اور مالک کی رضامندی حاصل ہے۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ کثیر ارب روپے کا ریلیف پروگرام پوری شفافیت اور سادگی کے ساتھ حقیقی مستحقین تک ایندھن کی بچت اور مالی ریلیف منتقل کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

مزید خبریں