وزیراعظم فیول ریلیف سکیم: پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کا خودکار طریقہ کار جاری، جعلسازی روکنے کیلئے 4 تصدیقی چیکس کی تفصیلات واضح

وزیراعظم فیول ریلیف سکیم: پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کا خودکار طریقہ کار جاری، جعلسازی روکنے کیلئے 4 تصدیقی چیکس کی تفصیلات واضح

اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے نادرا، صوبائی ایکسائز ڈیپارٹمنٹس اور ٹیلی کام آپریٹرز کے اشتراک سے پیٹرول ریلیف سکیم کا جامع اور خودکار ڈیجیٹل سسٹم فعال کر دیا ہے۔

سکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی کے لیے ماہانہ 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی، جس کا باقاعدہ آغاز اسلام آباد میں پیر اور منگل کی درمیانی شب 12 بجے سے اور ملک بھر میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 12 بجے سے ہو رہا ہے۔وزارت آئی ٹی نے شفافیت قائم رکھنے اور جعل سازی کے مکمل سدباب کے لیے رجسٹریشن میں چار بنیادی معلومات مانگنے کی وجوہات واضح کی ہیں۔

شہری کے اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم اور سی این آئی سی کی مطابقت اس لیے لازمی ہے تاکہ کوئی شخص دوسرے کے نام پر فیول ٹوکن چوری نہ کر سکے۔ گاڑی کی نمبر پلیٹ اور رجسٹریشن کے صوبے کا اندراج اس لیے ضروری ہے کیونکہ ہر صوبے اور خطے کا ایکسائز ریکارڈ الگ ہے جبکہ رجسٹریشن کی تاریخ مانگنے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ گاڑی کے اصل دستاویزات درخواست گزار کے پاس موجود ہیں اور وہ مالک کی باضابطہ اجازت سے اسے چلا رہا ہے، جس سے سڑک پر چلتی گاڑیوں کے جعلی اندراج کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔

سکیم سے مستفید ہونے کے لیے شہری اپنے نام پر رجسٹرڈ سم سے REG لکھ کر سپیس دیں، پھر بغیر ڈیش کے شناختی کارڈ نمبر، بغیر سپیس گاڑی کا نمبر، صوبائی کوڈ (مثلاً اسلام آباد کیلئے I، پنجاب کیلئے P، سندھ کیلئے S، خیبرپختونخوا کیلئے K، بلوچستان کیلئے B، آزاد کشمیر کیلئے A اور جی بی کیلئے G) اور رجسٹریشن کی تاریخ ہندسوں میں درج کر کے 9771 پر ایس ایم ایس بھیجیں۔

تصدیقی پیغام ملنے کے بعد شہری جب بھی ایندھن ڈلوانا چاہے گا، وہ پمپ جانے سے قبل 9771 پر TOK لکھ کر بھیجے گا اور موصول ہونے والا ٹوکن پمپ پر دکھا کر فی لیٹر 100 روپے کی فوری رعایت حاصل کر سکے گا۔وزارت نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ بائیک صارف کو 5 لیٹر کے ٹوکن پر میٹر کے مجموعی بل میں سے 500 روپے اور کار صارف کو 10 لیٹر کے ٹوکن پر 1000 روپے کم ادا کرنا ہوں گے۔

شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ حکومت اس عمل کی کوئی فیس یا اضافی بینک ڈیٹا طلب نہیں کرتی، اس لیے مشکوک پیغامات یا لنکس کو نظرانداز کریں۔ پیٹرول پمپس پر تکنیکی مسائل کے ازالے کے لیے الگ ہیلپ لائن، وزارت میں 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم اور پمپس پر مجسٹریٹس تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ کمزور اور محنت کش طبقات کو بلا تعطل ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

مزید خبریں