سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس ، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کی بریفنگ

سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس ، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کی بریفنگ

اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے موبائل پیکجز کے ٹیرف میں 15 فیصد سہ ماہی اضافے کے بعد نجی ٹیلی کام کمپنی (جاز) کی جانب سے 6.58 ارب روپے کی مبینہ اضافی وصولی کے سنگین آڈٹ اعتراض، پی ٹی سی ایل نجکاری کے تناظر میں متحدہ عرب امارات کی کمپنی اتصالات کے ذمے تقریباً 800 ملین ڈالر کے واجبات، ملک بھر میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کی مسلسل خرابی اور ٹیلی کام ٹاورز سے ڈیزل چوری جیسے اہم مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی اے اور وزارت سے تفصیلی ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر سعدیہ عباسی نے شرکت کی۔

کمیٹی کو ڈائریکٹر جنرل آڈٹ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹیرف میں ابتدائی طور پر صرف 3 فیصد اضافے کی تجویز تھی مگر اس کے برعکس 15 فیصد کی منظوری دی گئی، جس پر فیڈرل آڈٹ نے پی ٹی اے کی اس پالیسی پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی اے حکام نے موقف اپنایا کہ تمام ضابطے کی کارروائیاں مکمل کی گئی تھیں اور مصالحتی عمل کے بعد یہ رقم 6.58 ارب کے بجائے لگ بھگ 920 ملین روپے بنتی ہے۔

کمیٹی ارکان نے ٹیرف بڑھانے کے طریقہ کار اور آڈٹ کے مبالغہ آمیز اعتراضات دونوں پر تحفظات ظاہر کیے۔ چیئرپرسن نے پی ٹی اے اور آڈٹ کے متضاد دعوؤں کی جانچ کے لیے مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے متعلقہ دستاویزات پر دستخط کرنے والے ڈائریکٹر فنانس اور ڈپٹی ڈائریکٹر کو آئندہ اجلاس میں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔اجلاس میں ذیلی کمیٹی کی کنوینر سینیٹر سعدیہ عباسی نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے تعطل اور ٹیلی کام ٹاورز سے ڈیزل کی مبینہ گمشدگی پر رپورٹ پیش کی، جسے قائمہ کمیٹی نے باضابطہ طور پر منظور کر لیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنانے اور لوڈشیڈنگ کے اثرات زائل کرنے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ چیئرمین پی ٹی اے نے بڑے شہروں میں نیٹ ورک تعطل کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ رکاوٹیں یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام کے عمل اور 5G رول آؤٹ کی وجہ سے ہیں، جنہیں اکتوبر 2026 تک مکمل طور پر حل کر لیا جائے گا۔ علاوہ ازیں، پاکستان ریلویز کے ٹریکس پر موبائل و انٹرنیٹ کوریج کی بہتری کے لیے پی ٹی اے اور ریلوے حکام کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔کمیٹی نے ایل ڈی آئی اور ایف ایل ایل کے 38 طویل زیر التوا عدالتی مقدمات پر شدید تشویش ظاہر کی، جس پر پی ٹی اے نے آگاہ کیا کہ اب ٹیلی کام ٹربیونل مکمل فعال ہو چکا ہے اور بیشتر کیسز فیصلے کے لیے وہاں منتقل کر دیے گئے ہیں۔

پاک ڈیٹا کام کی سیٹلائٹ سروسز غیر ملکی سیٹلائٹ (یاہ سیٹ) پر منتقل کرنے کے فیصلے پر چیئرپرسن نے قومی سلامتی پر سوالات اٹھائے، جس پر حکام نے اسپیکٹرم کی کمی کو وجہ قرار دیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس اقدام کا نیشنل آئی ٹی سیکیورٹی بورڈ سے آڈٹ کرایا جائے اور صارفین کو باخبر رکھا جائے۔ اتصالات کے ذمے 800 ملین ڈالر کے تنازع پر سیکرٹری آئی ٹی نے بتایا کہ این ڈی اے معاہدے کی وجہ سے تفصیلات دینے میں پابندی ہے، جس پر چیئرپرسن نے رازداری کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی کو ضروری معلومات فراہم کرنے کا راستہ نکالنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے پاک ڈیٹا کام کے برطرف ملازمین کے کیسز این آئی آر سی میں زیر سماعت ہونے کے باوجود انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل کرنے کی سفارش کی، جبکہ اسٹارلینک کے لائسنس کا معاملہ پی ٹی اے کے پاس کوئی درخواست زیر التوا نہ ہونے کی وضاحت کے بعد مؤخر کر دیا گیا۔

مزید خبریں