وفاقی وزیر انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے جرمن کمشنر برائے مذہبی آزادی کی ملاقات، انسانی حقوق، مذہبی آزادی، قانون کی حکمرانی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے عزم کا اعادہ

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے جرمن وفاقی حکومت کے کمشنر برائے مذہبی آزادی تھامس ریچل نے پاکستان میں جرمن سفیر انا لیپل کے ہمراہ ملاقات کی

اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے جرمن وفاقی حکومت کے کمشنر برائے مذہبی آزادی تھامس ریچل نے پاکستان میں جرمن سفیر انا لیپل کے ہمراہ ملاقات کی۔ملاقات میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق، آزادی اظہار، کم عمری کی شادی، جبری شادی، بین المذاہب ہم آہنگی اور پاکستان کے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس فریم ورک سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پیر کو وزارت انسانی حقوق سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جرمن کمشنر برائے مذہبی آزادی تھامس ریچل نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے فروغ اور اقوام متحدہ کے اصولوں اور قانون کی حکمرانی کے لیے کردار کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے لیے ہونے والی قانون سازی اور ادارہ جاتی اقدامات میں دلچسپی کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پیچیدہ سکیورٹی حالات کا سامنا کیا، خصوصاً افغانستان میں جنگوں، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے اثرات نے پاکستان کے سماجی، ثقافتی اور مذہبی ماحول کو متاثر کیا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری انسانی اور معاشی قیمت ادا کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مشکل سکیورٹی ماحول کے باوجود حکومت انسانی حقوق، مذہبی آزادی، آزادی اظہار، سیاسی سرگرمیوں، اقلیتوں کے حقوق، خواتین اور بچوں کے تحفظ سمیت بنیادی حقوق کے لیے قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔وفاقی وزیر نے قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کے قیام کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ قانون سازی کے بعد کمیشن کی تشکیل کا عمل پارلیمانی سطح پر جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کمیشن اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک موثر اور آزاد ادارے کے طور پر اپنا کردار ادا کرے گا۔ملاقات میں صحافیوں کے حقوق سے متعلق حالیہ ادارہ جاتی پیش رفت، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور قومی کمیشن برائے خواتین کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر نے کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے قانون سازی کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد بچوں بالخصوص کم عمر لڑکیوں کو قبل از وقت شادی، صحت کے مسائل اور دیگر سماجی مشکلات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس فریم ورک کو پاکستان کے لیے صرف ایک تجارتی سہولت نہیں بلکہ انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے فروغ کے لیے ایک مفید ترغیبی نظام قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کے تقاضے پاکستان میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے متعلق اصلاحات کے لیے اضافی محرک فراہم کرتے ہیں جس سے بالخصوص معاشرے کے کمزور، محروم اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ میں مدد مل سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان جی ایس پی پلس کو محض تجارت اور کاروبار کے تناظر میں نہیں دیکھتا بلکہ اس کے انسانی اور سماجی پہلو بھی اہم ہیں۔جرمن کمشنر تھامس ریچل نے بین المذاہب مکالمے اور مذہبی رواداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذہبی اور عقائدی پس منظر رکھنے والے افراد اور برادریوں کے درمیان باہمی احترام عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ جرمنی میں بھی مختلف مذہبی برادریاں آباد ہیں اور مختلف عقائد کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا ایک مسلسل کوشش کا تقاضا کرتا ہے۔ مذہبی رہنمائوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں دوسرے مذاہب اور گروہوں کے احترام، برداشت اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دیں۔دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ انسانی حقوق، مذہبی آزادی، قانون کی حکمرانی، بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مسلسل مکالمہ ناگزیر ہے۔ملاقات خوشگوار، دوستانہ اور تعمیری ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔

مزید خبریں