وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ سرکاری ملکیتی اداروں(ایس اوایز)میں اصلاحات کا عمل مسائل کی نشاندہی سے آگے بڑھتے ہوئے موثر نگرانی، شفافیت، بہتر طرز حکمرانی اور عملی اقدامات کی جانب گامزن ہے، گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں ایس اوایز کی کارکردگی سے اہم پیش رفت کی عکاسی ہورہی ہے ۔
سرکاری ملکیتی اداروں میں اصلاحات کا عمل موثر نگرانی، شفافیت، بہتر طرز حکمرانی اور عملی اقدامات کی جانب گامزن ہے،خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے کہاہے کہ سرکاری ملکیتی اداروں(ایس اوایز)میں اصلاحات کا عمل مسائل کی نشاندہی سے آگے بڑھتے ہوئے موثر نگرانی، شفافیت، بہتر طرز حکمرانی اور عملی اقدامات کی جانب گامزن ہے، گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں ایس اوایز کی کارکردگی سے اہم پیش رفت کی عکاسی ہورہی ہے ۔
منگل کوسماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 423.3 ارب روپے منافع حاصل کیا، خسارے میں چلنے والے اداروں کو 342.8 ارب روپے کے مجموعی خسارے کا سامنا رہا۔ سرکاری اداروں کی جانب سے حکومت کو مجموعی طور پر 839 ارب روپے فراہم کیے گئے جبکہ حکومت نے ان اداروں کو 804 ارب روپے کی معاونت فراہم کی،اس طرح سرکاری اداروں کی جانب سے حکومت کو مجموعی طور پر 35 ارب روپے کا مثبت خالص مالی بہائوریکارڈکیاگیا۔
انہوں نے کہاکہ اگرچہ سرکاری کاروباری اداروں کے ایک حصے میں خسارے اور ڈھانچہ جاتی نوعیت کے مسائل بدستور موجود ہیں، تاہم حکومت نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کارکردگی، جوابدہی اور فیصلہ کن اقدامات پر مبنی اصلاحات کے پروگرام پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے ،اصلاحات کے پروگرام کے تحت سرکاری اداروں کے دائرہ کار کو انفرادی اداروں کی تجارتی استعداد اور سٹریٹجک اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے محدود، ازسرنو منظم اور نجی شعبے کو منتقل کیا جا رہا ہے ،یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی سرگرمیاں بند کی جا چکی ہیں جبکہ پاسکو کو مرحلہ وار ختم کرنے کا عمل جاری ہے، فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز میں اکثریتی حصص کی نجکاری کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے،اسی طرح فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی ، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کا عمل جاری ہے، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی کو بھی نجکاری کے لیے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
مزید سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور نجکاری کے اقدامات بھی جاری ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جہاں نجی شعبہ کسی کاروباری سرگرمی کو زیادہ موثر انداز میں چلا سکتا ہے وہاں حکومت کو کاروبار میں موجود نہیں رہنا چاہیے، وہ سرکاری ادارے جو عوامی شعبے میں برقرار رکھے جائیں گے انہیں پیشہ ورانہ طرز حکمرانی، مالیاتی نظم و ضبط اور نتائج کی بنیاد پر جوابدہی کا پابند بنایا جائے گا ،سرکاری اداروں میں شفافیت اور احتساب کے نظام کو بھی مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے مربوط ڈیجیٹل رپورٹنگ اور تجزیاتی پلیٹ فارم کو فعال کر دیا ہے جس کے ذریعے مالی و انتظامی کارکردگی، کاروباری منصوبوں پر عملدرآمد اور خطرات کی نگرانی کو زیادہ منظم اور اعداد و شمار پر مبنی بنایا گیا ہے ، ڈیجیٹل نظام کے نتیجے میں اداروں کی کارکردگی کی بہتر نگرانی، خطرات کی بروقت نشاندہی، قابل پیمائش کارکردگی کے اشاریوں کے تعین اور جوابدہی کے نظام کو مزید موثر بنانے میں مدد ملے گی۔
خرم شہزادنے کہاکہ حکومت سرکاری اداروں کے بورڈز کی کارکردگی بہتر بنانے، مالیاتی رپورٹنگ کے نظام کو مضبوط کرنے اور کاروباری منصوبوں پر موثر نگرانی کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے ،اس کے ساتھ ساتھ گردشی قرضے، انتظامی و آپریشنل کمزوریوں اور دیگر مالیاتی خطرات سے نمٹنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ سرکاری اداروں کی اصلاحات کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ قومی اثاثے عوامی خزانے پر مستقل بوجھ بننے کے بجائے ملکی معیشت کے لیے قدر اور معاشی فوائد پیدا کریں۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی اصلاحات کی حکمت عملی کا محور سرکاری اداروں کا محدود دائرہ کار، مضبوط طرز حکمرانی، زیادہ شفافیت اور بہتر کارکردگی ہے جس کا مقصد سرکاری اثاثوں کو قومی معیشت کے لیے زیادہ موثر اور نتیجہ خیز بنانا ہے۔








