ترکیہ نے اپنے پہلے قمری خلائی جہاز کی تیاری اور جوڑنے کا عمل مکمل کر کے 3.5 میٹرک ٹن وزنی خلائی جہاز کو ماحولیاتی تجربات کے لیے ترک ایرو سپیس انڈسٹریز (TAI) کے حوالے کردیا ہے۔
ترکیہ نے اپنے پہلے قمری خلائی جہاز کی تیاری اور جوڑنے کا عمل مکمل کر لیا

مزید خبریں
انقرہ۔15ستمبر (اے پی پی):ترکیہ نے اپنے پہلے قمری خلائی جہاز کی تیاری اور جوڑنے کا عمل مکمل کر کے 3.5 میٹرک ٹن وزنی خلائی جہاز کو ماحولیاتی تجربات کے لیے ترک ایرو سپیس انڈسٹریز (TAI) کے حوالے کردیا ہے۔
اماراتی نیوزایجنسی وام کے مطابق صنعت و ٹیکنالوجی کے وزیر مہمت فاتح کاشر نے ایک بیان میں کہا کہ خلائی جہاز کو 2027 کے اوائل میں کینیڈی سپیس سینٹر سے لانچ کیا جائے گا اور اسے چاند کے گرد 100 کلومیٹر (62.13 میل) بلند قطبی مدار تک پہنچنے میں تقریباً دو ماہ لگیں گے۔خلائی جہاز چاند کے مدار میں تین ماہ تک کام کرے گا، تاہم اس کی مدت کار کو ڈیڑھ سال تک بڑھانے کا امکان ہے۔ اس دوران مقامی طور پر تیار کردہ سائنسی آلات کے ذریعے شمسی ہواؤں، پانی کی تشکیل، مقناطیسی میدانوں اور سطحی تابکاری کا جائزہ لیا جائے گا۔
مہمت فاتح کاشرنے کہا کہ یہ کوششیں دفاعی صنعت میں اختیار کیے گئے ملک کے اسی طرز عمل کے تحت ’’اہم ٹیکنالوجیز میں مکمل خودمختار ترکیہ‘‘ کے قیام کے لیے کی گئی ہیں۔خلائی جہاز میں سابقہ ’’ امیج ‘‘ اور ’’ترک سَیٹ 6 اے‘‘ سیٹلائٹ منصوبوں کے لیے تیار کیے گئے اہم مواصلاتی اور بجلی کے نظام شامل ہیں اور اس میں 80 فیصد مقامی پیداوار کی شرح ہے۔انہوں نے انادولو ایجنسی کے حوالے سے کہا کہ مزید تجربات سے اس بات کی تصدیق ہوگی کہ خلائی جہاز لانچ کے دوران اور خلائی ماحول میں پیش آنے والے سخت حالات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے بعد خلائی جہاز کو حتمی معائنے کے لیے ترک سائنسی و تکنیکی تحقیقاتی ادارےتب آئی ٹیک سپیس کی نئی کلین روم سہولت میں منتقل کیا جائے گا۔
خلائی جہازمدار میں لے جانے کی کارروائیوں اور بنیادی سائنسی مشن کے اختتام پر چاند کی سطح تک پہنچنے کے لیے حتمی کنٹرول شدہ رفتار کم کرنے کی کارروائی کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ ہائبرڈ پروپلشن سسٹم استعمال کرے گا۔ وزیر نے کہا کہ اب تک صرف 8 ممالک نے قمری مشن انجام دیے ہیں اور جب ترکیہ اپنا پروگرام مکمل کرے گا تو وہ ایسا کرنے والا دنیا کا نواں ملک بن جائے گا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترکیہ حال ہی میں آرٹیمس معاہدوں میں شامل ہوا ہے، جن کا مقصد چاند اور بیرونی خلائی حدود کی پرامن تلاش میں عالمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ مہمت فاتح کاشرنے کہا کہ ترک سَیٹ 7 اے مواصلاتی سیٹلائٹ کی تیاری شروع کر دی گئی ہے جبکہ امیج -2 (Imece-2 ) اورامیج -3 زمینی مشاہداتی سیٹلائٹ کے مجموعوں کے ڈیزائن کے مراحل بھی جاری ہیں۔








