محکمہ زراعت (توسیع)سیالکوٹ نے مولی کی کاشت ستمبر سے اکتوبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر پیداوار کے حصول کے لیے کاشتکار محکمے کی سفارشات کے مطابق زمین کی تیاری، بیج کی مقدار اور کھادوں کا مناسب استعمال یقینی بنائیں۔
مولی کی کاشت ستمبر سے اکتوبر تک مکمل کریں، محکمہ زراعت

مزید خبریں
سیالکوٹ۔15ستمبر (اے پی پی):محکمہ زراعت (توسیع)سیالکوٹ نے مولی کی کاشت ستمبر سے اکتوبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر پیداوار کے حصول کے لیے کاشتکار محکمے کی سفارشات کے مطابق زمین کی تیاری، بیج کی مقدار اور کھادوں کا مناسب استعمال یقینی بنائیں۔
یہ بات زراعت آفیسر مرکز کینٹ عمار عبداللہ نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ مولی کی کاشت کے لیے بیج بذریعہ کیرا کاشت کیا جائے اور فی ایکڑ 3 سے 4 کلوگرام بیج استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 40 دن میں تیار ہونے والی مولی کی اقسام منو، گرین یک، لال پری اور آل سیزن کے بیج کاشت کیے جائیں تاکہ بروقت اور بہتر پیداوار حاصل کی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ مولی کی کامیاب کاشت کے لیے ضروری ہے کہ بیج محکمہ زراعت پنجاب کی سفارش کردہ مقدار کے مطابق 75 سینٹی میٹر چوڑی کھیلیوں کے دونوں کناروں پر کاشت کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مناسب کھادوں کے استعمال سے فصل کی بہتر نشوونما اور پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ مولی کی فصل کے لیے فی ایکڑ 9 کلوگرام نائٹروجن، 23 کلوگرام فاسفورس اور 25 کلوگرام پوٹاش استعمال کی جائے۔ انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ مولی کی کاشت بروقت مکمل کرنے کے ساتھ محکمہ زراعت کی دیگر سفارشات پر بھی عمل کریں تاکہ فصل کی بہتر پیداوار حاصل کرکے زیادہ مالی فائدہ اٹھایا جا سکے۔








