وفاقی وزیرموسمیاتی تبدیلی وماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ چار پانچ تباہ کن سیلابوں کے دوران تقریباً 7 ہزار افراد جاں بحق، 17 ہزار افراد زخمی یا مستقل معذور جبکہ 4 کروڑ افراد بے گھر ہو چکے ہیں
پاکستان میں گزشتہ چار پانچ تباہ کن سیلابوں کے دوران تقریباً 7 ہزار افراد جاں بحق، 17 ہزار افراد زخمی یا مستقل معذور جبکہ 4 کروڑ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، مصدق ملک

مزید خبریں
اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرموسمیاتی تبدیلی وماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ چار پانچ تباہ کن سیلابوں کے دوران تقریباً 7 ہزار افراد جاں بحق، 17 ہزار افراد زخمی یا مستقل معذور جبکہ 4 کروڑ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو“پاکستان میں ہجرت اورمائیگریشن گورننس کی بہتری میں پارلیمنٹ کا کردار” کے موضوع پر پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ محض 100، ایک ہزار یا 10 لاکھ افراد کی نقل مکانی نہیں بلکہ 4 کروڑ افراد کے بے گھر ہونے کا معاملہ ہے، جو یورپ کے بیشتر ممالک کی آبادی سے زیادہ تعداد ہے۔موسمیاتی تباہ کاریوں کے انسانی اثرات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے گرد قیام پذیر اندرون سندھ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کا ذکر کیا اور ایک بچی سے ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے بچی کو بتایا کہ وہ سیاست کرتے ہیں تو اس نے پوچھا کہ سیاست کیا ہوتی ہے، جس پر انہوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ سیاست مستقبل ہوتی ہے۔ بچی کےمستقبل کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ’’مستقبل تم ہو‘‘، تاہم اس موقع پر انہیں احساس ہوا کہ اندرون سندھ سے سینکڑوں میل کا سفر طے کرکے نقل مکانی کرنے والی بچی مزار کے نیچے بیٹھی ہے۔مصدق ملک نے کہا کہ یہ بچی مائیگریشن کی انسانی شکل ہے اور جب سیلاب یا کسی قدرتی آفت کو انسانی شکل میں دیکھا جائے تو متاثرہ افراد کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات واضح ہوتے ہیں۔انہوں نے بلوچستان کے ایک چھوٹے گاؤں میں آنے والے فلیش فلڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بچے کی تصویر سامنے آئی جس کے ہاتھ میں گیلی اور پھٹی ہوئی کتاب تھی، اس کا مکان بہہ چکا تھا اور وہ اپنے والد کی طرف دیکھ رہا تھا، گویا پوچھ رہا ہو کہ اب کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں نہ مکان باقی رہا تھا، نہ ہسپتال، کلینک، سکول اور نہ بستی، جس کے باعث لوگوں کو وہاں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔وفاقی وزیر نےسندھ کے ایک خاندان کی داستان بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیلاب کے بعد خاندان اپنا علاقہ چھوڑ کر چلا گیا، پانی اترنے پر واپس آکر دوبارہ کھیتی باڑی شروع کی، تاہم دوسرے سیلاب کے بعد پھر کراچی یا کسی اور مقام پر منتقل ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ کئی نسلوں سے ایک ہی علاقے میں رہنے والے یہ لوگ تیسری مرتبہ آنے والے بڑے سیلاب کے بعد اب کراچی میں مزدوری کر رہے ہیں اور اپنا علاقہ، کھیتی باڑی، روایات اور رشتہ دار چھوڑ آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسی بے شمار داستانیں ہیں جن میں نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی اپنی اپنی دردناک کہانیاں موجود ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جنگ بڑی آفت ہے یا یہ نقل مکانی، مائیگریشن اور تباہی اور کہا کہ اس معاملے کو موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ سکیورٹی سمیت مختلف زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔مصدق ملک نے کہا کہ جب متاثرہ نوجوانوں، ان کے والدین اور بزرگوں کی داستانوں، بہہ جانے والے سکولوں، مساجد، گرجا گھروں اور ہزاروں سال کی تہذیب کے متاثر ہونے کو ہر فرد کی کہانی کے طور پر دیکھا جائے تو موسمیاتی تباہ کاریوں اور نقل مکانی کے انسانی اثرات کی حقیقی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔








