محکمہ اعلیٰ تعلیم کے پی کے اور پاک آسٹریا فاخاشولے انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز ہری پور کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

خیبرپختونخوا کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے پی کے نے طلبہ کو تعلیم کے بعد روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے پاک آسٹریا فاخاشولے انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز ہری پور کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں

پشاور۔ 15 ستمبر (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے پی کے نے طلبہ کو تعلیم کے بعد روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے پاک آسٹریا فاخاشولے انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز ہری پور کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق معاہدے کے تحت جامعات اور ڈگری کالجز کے طلبہ کو ان کے تعلیمی اداروں کی دہلیز پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی مہمان خصوصی تھے جبکہ سیکرٹری اعلیٰ تعلیم اور جامعات کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔مفاہمت کے تحت طلبہ کے لیے روزگار میلوں کا انعقاد کیا جائے گا جن میں مختلف روزگار فراہم کرنے والی کمپنیوں اور صنعتوں کو مدعو کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو مقامی اور بین الاقوامی روزگار کی صنعت سے براہِ راست منسلک کرنا اور انہیں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مطابق مواقع فراہم کرنا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے کہا کہ اس وقت خیبرپختونخوا کی سرکاری و نجی جامعات اور ڈگری کالجز میں 251,090 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں زیر تعلیم نوجوانوں کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کے مواقع سے جوڑنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال خیبرپختونخوا کی جامعات نے مجموعی طور پر پانچ روزگار میلوں کا انعقاد کیا، تاہم اب اس عمل کو مزید وسعت دے کر طلبہ کو ان کے تعلیمی اداروں ہی میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ بیرون ملک روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستانی کمرشل اتاشیوں کے ساتھ خط و کتابت کی جا چکی ہے، تاکہ خیبرپختونخوا کے گریجویٹس کو بین الاقوامی روزگار کی مارکیٹ سے منسلک کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کو سمندر پار پاکستانیوں سے تقریباً 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جبکہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی سمندر پار افرادی قوت نے بھی ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کیا۔صوبائی وزیر نے اعلان کیا کہ فریش گریجویٹس کے لیے آئندہ ماہ انٹرن شپ پروگرام شروع کیا جائے گا، جس کے تحت نئے گریجویٹس کو ان کے متعلقہ شعبوں سے وابستہ سرکاری محکموں میں پیڈ انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد نوجوانوں کو صرف ڈگریاں فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں عملی تجربہ، مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتیں اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم اور متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے طلبہ کو مقامی صنعت، قومی مارکیٹ اور بین الاقوامی روزگار کے مواقع سے جوڑنے کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے گا۔