سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کا اجلاس، ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے پالیسی اور تیاری سے متعلق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کا اجلاس، ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے پالیسی اور تیاری سے متعلق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے حوالے سے پالیسی، تیاری، منصوبہ بندی اور رابطہ کاری سے متعلق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر انوشہ رحمان، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری، سینیٹر شاہزیب درانی اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے شرکت کی۔
ذیلی کمیٹی کی کنوینر سینیٹر انوشہ رحمان نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل ایجوکیشن پالیسی سے متعلق اہم امور پر قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ملک میں میڈیکل نشستوں کی سالانہ تعداد 22 ہزار 300 تک محدود کر رکھی ہے۔ ذیلی کمیٹی کے مطابق موجودہ تعداد پاکستان کی طبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں اور اس کے باعث ملک میں طبی ماہرین کی کمی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ذیلی کمیٹی نے پالیسی سازی کے عمل میں نجی میڈیکل شعبے کی نمائندگی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور موجودہ مشاورتی طریقہ کار کی افادیت پر سوال اٹھایا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف ای میل کے ذریعے مشاورت کافی نہیں، تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ منظم، بامعنی اور موثر مشاورت ضروری ہے۔
قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایم ڈی کیٹ میں کامیاب ہونے والے تقریباً 93 ہزار طلبہ میڈیکل کالجز میں داخلہ حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں جس کے باعث بڑی تعداد میں میڈیکل کے خواہشمند طلبہ طبی تعلیم کے نظام سے باہر ہو جاتے ہیں۔ذیلی کمیٹی نے غیر ملکی میڈیکل اداروں میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کے لیے ایم ڈی کیٹ لازمی قرار دینے کی پی ایم ڈی سی پالیسی میں موجود تضاد کی بھی نشاندہی کی۔ ذیلی کمیٹی نے ناقص معیار کے غیر ملکی میڈیکل اداروں کی موثر نگرانی اور ریگولیشن کی سفارش کرتے ہوئے ایسے اداروں کی فہرست تیار کرکے عوام کے سامنے جاری کرنے کی تجویز دی جو مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔اجلاس میں ایف ایس سی اور اے لیول کے تعلیمی نظام اور ایم ڈی کیٹ کے کثیر الانتخاب سوالات (MCQs) پر مبنی امتحانی نظام کے درمیان فرق پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ موجودہ امتحانی طریقہ کار طلبہ کو نجی اکیڈمیوں پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
ذیلی کمیٹی نے امیدواروں کو ہر سال ایم ڈی کیٹ میں شرکت کے متعدد مواقع فراہم کرنے کی سفارش بھی کی۔رپورٹ میں میڈیکل نشستوں کی موجودہ حد پر نظرثانی کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا کہ نشستوں میں اضافے سے بڑے پیمانے پر تعلیمی سہولیات کے استعمال کے باعث اخراجات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے جس سے میڈیکل تعلیم کی لاگت کم کرنے میں معاونت حاصل ہوگی۔ذیلی کمیٹی نے داخلے کے عمل میں ایم ڈی کیٹ کو دی جانے والی موجودہ 50 فیصد اہمیت (ویٹیج) کو بھی ازسرنو متعین کرنے کی سفارش کی۔
رپورٹ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ طویل المدتی پالیسی تشکیل دی جائے جس کا مقصد نہ صرف ملک کی طبی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر تعداد میں باصلاحیت اور اہل ڈاکٹر تیار کرنا ہو بلکہ پاکستان کو طبی ماہرین برآمد کرنے والا ملک بنانے کی سمت بھی پیش رفت کی جائے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے ذیلی کمیٹی کی جانب سے کی جانے والی وسیع پیمانے پر کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے پی ایم ڈی سی پر زور دیا کہ میڈیکل تعلیم اور داخلوں سے متعلق پالیسیوں کی تشکیل اور نظرثانی کے دوران تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز، بالخصوص نجی میڈیکل کالجز سے بامعنی مشاورت یقینی بنائی جائے۔چیئرمین کمیٹی نے مزید زور دیا کہ میڈیکل تعلیم میں توسیع کے ساتھ ساتھ معیار کے سخت اصولوں پر بھی کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے نجی میڈیکل کالجز کی موثر ریگولیشن یقینی بنانے کی ہدایت کی تاکہ طلبہ کو معیاری طبی تعلیم کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔







