وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت منگل کے روز صوبہ بھر کے ضلعی زکوٰۃ چیئرمینوں اور زکوٰۃ افسران کا تعارفی و ایک سالہ کارکردگی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔محکمہ سماجی بہبود خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق
صوبہ بھر کے ضلعی زکوٰۃ چیئرمینوں اور زکوٰۃ افسران کا تعارفی و ایک سالہ کارکردگی جائزہ اجلاس کا انعقاد

مزید خبریں
پشاور۔ 15 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت منگل کے روز صوبہ بھر کے ضلعی زکوٰۃ چیئرمینوں اور زکوٰۃ افسران کا تعارفی و ایک سالہ کارکردگی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔محکمہ سماجی بہبود خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق اجلاس میں سیٹلڈ اور ضم شدہ اضلاع کے ضلعی زکوٰۃ چیئرمینوں اور افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں گزشتہ ایک سال کے دوران زکوٰۃ نظام کی کارکردگی، مستحق افراد کو فراہم کی جانے والی معاونت، فنڈز کے استعمال، جاری فلاحی اقدامات اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر زکوٰۃ نظام کو مزید مؤثر بنانے اور مستحقین تک امداد کی بروقت فراہمی کے لیے مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین، صوبائی چیئرمین زکوٰۃ ایڈووکیٹ امتیاز خان، ایڈیشنل سیکرٹری زکوٰۃ حبیب اللہ سمیت محکمہ سماجی بہبود و زکوٰۃ کے دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر ضلعی زکوٰۃ چیئرمینوں نے اپنے اضلاع کے مسائل اور نظام میں بہتری کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔
ملک لیاقت علی خان نے مسائل کے حل کے لیے ہر ڈویژن سے ایک ضلعی زکوٰۃ چیئرمین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ کمیٹی محکمہ سماجی بہبود و زکوٰۃ کے حکام کے ساتھ مل کر مسائل کا جائزہ لے گی اور ان کے حل کے لیے قابلِ عمل اقدامات تجویز کرے گی، جن پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ زکوٰۃ کا نظام مستحق اور کمزور طبقات کی معاونت کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے اسے مزید شفاف، فعال اور عوام دوست بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،زکوٰۃ فنڈز حقیقی مستحقین تک بروقت پہنچانے اور ضلعی سطح پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض ذمہ داری اور خلوص کے ساتھ انجام دیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سیٹلڈ اضلاع کے ساتھ ساتھ ضم شدہ اضلاع میں بھی زکوٰۃ نظام کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور مستحق افراد کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔








