وفاقی آئینی عدالت کا بانی پی ٹی آئی سے متعلق مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ سے طلب کرنے کا حکم
وفاقی آئینی عدالت کا بانی پی ٹی آئی سے متعلق مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ سے طلب کرنے کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور دیگر سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ سے متعلقہ مقدمات کا مکمل ریکارڈ طلب کرنے کا حکم دے دیا۔وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری حکمنامے میں قرار دیا ہے کہ زیرِ سماعت درخواستوں میں اٹھائے گئے سوالات سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کو فوجداری اپیل نمبر 400/2025 اور دیگر منسلک مقدمات میں جاری حکم کے نتیجے میں پیدا ہوئے، اس لیے مذکورہ مقدمات کو بھی درخواستوں کے ساتھ جانچنا ضروری ہوگیا ہے۔
حکمنامے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 175ای کی شق 5 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت متعلقہ مقدمات کا مکمل ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ان مقدمات میں فوجداری اپیل 400/2025 مشال اعظم بنام غفور انجم، سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل اڈیالہ و دیگر، فوجداری اپیل 17/2026 سلمان اکرم راجہ بنام کیپٹن (ر) محمد خرم آغا و دیگر، فوجداری متفرق درخواست 1696/2026 عظمیٰ خان بنام ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اسلام آباد، فوجداری درخواست برائے اجازت اپیل 1370/2026 عمران احمد خان نیازی بنام ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اسلام آباد، فوجداری درخواست برائے اجازت اپیل 1501/2023 عمران احمد خان نیازی بنام ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اسلام آباد شامل ہیں۔
اسی طرح فوجداری متفرق درخواست نمبر 2033/2026، چیف کمشنر اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری بنام عمران احمد خان نیازی و دیگر، فوجداری اصل درخواست نمبر 8/2026 عظمیٰ خان بنام لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف و دیگر اور فوجداری اصل درخواست نمبر 9/2026 عظمیٰ خان بنام لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف و دیگر کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور منسلک مقدمہ زیرِ التوا ہو تو اس کا ریکارڈ بھی طلب کیا جائے۔عدالت نے دفتر رجسٹرار کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ آف پاکستان سے اس کے رجسٹرار کے ذریعے طلب کیا جائے اور ان درخواستوں سے پیدا ہونے والی اپیلوں کے ساتھ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔







