پاکستان اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے درمیان چشمہ-5 نیوکلیئر پاور پلانٹ کے لیے سیف گارڈز معاہدے پر دستخط

اکستان کے نیوکلیئر پاور پروگرام کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ-5 (C-5) کے لیے سیف گارڈز معاہدے پر دستخط کیے

ویانا/اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):پاکستان کے نیوکلیئر پاور پروگرام کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ-5 (C-5) کے لیے سیف گارڈز معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی کے ساتھ ایجنسی کے ہیڈکوارٹرز ویانا میں آئی اے ای اے کی 70ویں جنرل کانفرنس کے موقع پر طے پایا۔ دستخط کی تقریب میں چائنا اٹامک انرجی اتھارٹی کے چیئرمین شان ژونگ ڈے بھی موجود تھے۔ پاکستان اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے درمیان چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ-5 پر سیف گارڈز کے نفاذ سے متعلق معاہدے کی آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز نے مارچ 2026 میں ہونے والے اجلاس کے دوران متفقہ طور پر منظوری دی تھی۔ اس معاہدے پر دستخط C-5 کے لیے سیف گارڈز کے عملی نفاذ کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔منگل کوپاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے جاری بیان کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا اظہار بھی ہے کہ عالمی برادری کو پاکستان کی جانب سے نیوکلیئر توانائی کے پرامن استعمال اور جوہری عدم پھیلاؤ اور سیف گارڈز سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کرنے کے عزم پر مسلسل اعتماد ہے۔

چشمہ-5 کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور منصوبے نے کئی اہم مراحل کامیابی سے مکمل کیے ہیں جن میں ری ایکٹر کی عمارت کے گنبد کی تنصیب مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنا بھی شامل ہے۔ چشمہ-5 کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1,200 میگاواٹ (MW(e)) ہوگی اور اسے 2028 میں بجلی کی پیداوار شروع کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہ یونٹ پاکستان کے قومی بجلی کے نظام میں کم کاربن اخراج اور کم لاگت والی بجلی کا ایک اہم ذریعہ شامل کرے گا۔ اس سے ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے، موسمیاتی اہداف حاصل کرنے اور پائیدار معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔ اس وقت پاکستان چھ نیوکلیئر پاور پلانٹس چلا رہا ہے جن کی مجموعی تنصیب شدہ پیداواری صلاحیت 3,530 میگاواٹ (MW(e)) ہے۔ ان پاور پلانٹس نے اوسطاً 90 فیصد سے زیادہ کیپیسٹی فیکٹر برقرار رکھا ہے۔ پاکستان کو نیوکلیئر پاور پلانٹس چلانے کا طویل اور وسیع تجربہ حاصل ہے ۔اس تجربے کی بنیاد پر پاکستان بین الاقوامی معیار کے مطابق محفوظ، سیکیور اور سیف گارڈز کے تحت نیوکلیئر پاور پلانٹس چلانے کا ریکارڈ رکھتا ہے۔

اس سے قبل پاکستان اور چین کے وفود کے درمیان ایک دوطرفہ اجلاس بھی ہوا، جس میں نیوکلیئر سائنس اور ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے شعبے میں جاری اور مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی وفد کی قیادت چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر راجہ علی رضا انور جبکہ چینی وفد کی سربراہی چیئرمین سی اے ای اے شان ژونگ ڈےنے کی۔ اس ملاقات کے دوران آسٹریا میں پاکستان کے سفیر اور آئی اے ای اے میں پاکستان کے مستقل نمائندے محمد کامران اختر ملک بھی موجود تھے۔ چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے چین کی اٹامک انرجی اتھارٹی، ویانا میں چین کے مستقل مشن اور نیوکلیئر سائنس و اس کے مختلف پرامن استعمال کے شعبے میں کام کرنے والے معروف چینی اداروں کی جانب سے منعقد کیے گئے دو اعلیٰ سطحی سائیڈ ایونٹس میں بھی اہم مقرر کے طور پر شرکت کی۔