بانی پی ٹی آئی ہسپتال منتقلی کیس، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے آئینی عدالت کے حکم پر معاونت طلب کرلی

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق کیس میں وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے مقدمات کا ریکارڈ طلب کیے جانے کے معاملے پر اٹارنی جنرل سے آئندہ سماعت پر معاونت طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق کیس میں وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے مقدمات کا ریکارڈ طلب کیے جانے کے معاملے پر اٹارنی جنرل سے آئندہ سماعت پر معاونت طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کردی۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور وفاقی آئینی عدالت کا گزشتہ روز جاری ہونے والا حکم نامہ پڑھ کر سنایا۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آئینی عدالت کے حکم میں مقدمات کا ریکارڈ منگوا کر انہیں مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، مقدمات مقرر کرنے کے حوالے سے ہم آئین کی منشا سمجھنا چاہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوالات صرف سمجھنے کے لیے ہیں، عدلیہ کے درمیان باہمی احترام کے قائل ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے مطابق وفاقی آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ ہی نہیں بلکہ کیسز بھی منگوا سکتی ہے، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار آئین میں واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے اور مناسب ہوگا کہ سپریم کورٹ کیس پر سماعت موخر کردے۔

جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ وفاقی آئینی عدالت کے حکم کی پابند ہے اور یہ تعین ہونا ہے کہ آئینی عدالت کہاں کہاں سے ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔ جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں کیے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی کیا وفاقی آئینی عدالت پابند نہیں ہوگی؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیصلوں کے اطلاق سے متعلق آئین کا آرٹیکل 189 واضح ہے، جبکہ سپریم کورٹ کا شریعت بنچ قرآن و سنت کی تشریح کرسکتا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ آئینی عدالت کے سوالات پر کوئی بات نہیں کریں گے تاہم عدالتی دائرہ اختیار کے نکتے پر معاونت کریں گے۔ انہوں نے تین ہفتوں کی مہلت کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی فوجداری اپیل میں کسی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں تھی،

توہین عدالت کی درخواستوں میں بھی آئین کی تشریح درکار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو عدالتی حکم پر ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں موجود اپیلیں فوجداری مقدمے اور توہین عدالت کی درخواستوں سے متعلق ہیں۔ گزشتہ سماعت پر عبوری حکم نامہ جاری کیا گیا تھا، جبکہ آج سماعت کے لیے مقدمہ مقرر ہونے پر بتایا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے نتیجے میں کچھ مقدمات دائر ہوئے ہیں۔عدالت نے کہا کہ بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے کچھ مقدمات وفاقی آئینی عدالت تک پہنچے، جن میں بانی پی ٹی آئی کو دیا گیا عبوری ریلیف مانگا گیا تھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے ان مقدمات پر کارروائی آگے بڑھانے سے قبل سپریم کورٹ میں زیرالتوا کیسز کا ریکارڈ منگوا لیا۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم اب بھی قائم و دائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا لیکن کوئی سرکاری افسر پیش نہیں ہوا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مناسب ہوگا ایک موقع دیا جائے، ممکن ہے افسران یہ سمجھ رہے ہوں کہ آج سماعت نہیں ہوگی۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ نظرثانی درخواست میں حکومت نے لکھا ہے کہ نجی ہسپتال میں علاج نہیں ہوسکتا، جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے حکم پر ریکارڈ فراہم کردیا گیا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کے حکم کے باقی حصے پر عمل ہورہا ہے اور کیا بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتیں اور بچوں سے بات کرائی گئی ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات مؤثر ہیں اور وہ اس معاملے کو بھی چیک کرلیں گے۔عدالت نے اٹارنی جنرل کی تین ہفتوں کی مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

مزید خبریں