47ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے 14 رکنی وفد کا سنٹرل پولیس آفس پشاور کا دورہ
47ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے 14 رکنی وفد کا سنٹرل پولیس آفس پشاور کا دورہ
پشاور۔ 16 ستمبر (اے پی پی):47ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے 14 رکنی وفد نے بدھ کوسنٹرل پولیس آفس پشاور کا دورہ کیا۔ تر جمان سنٹرل پولیس آفس پشاورکے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز خیبر پختونخوا شاکر حسین داوڑ اور ڈی آئی جی آئی ٹی اعجاز احمد نے نقشوں اور چارٹوں کی مدد سے وفد کو خیبر پختونخوا میں جرائم اور دہشت گردی کے واقعات ، پولیس رسپانس، سی ٹی ڈی کی استعدادِ کار، پولیس انفراسٹرکچر، فورٹیفکیشن، جدید ٹیکنالوجی اور مستقبل کی حکمتِ عملی پرجامع بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ دہشت گردی کا خطرہ اب روایتی حملوں تک محدود نہیں، بلکہ جدید اسلحہ، ڈرونز، تھرمل ہتھیار، جدید مواصلاتی ذرائع اور دیگر ٹیکنالوجی کے استعمال نے چیلنجز میں اضافہ کردیا ہے۔
ان بدلتے خطرات کے پیش نظر خیبر پختونخوا پولیس نے بھی آئی جی پی ذوالفقار حمید کی قیادت میں روایتی پولیسنگ سے آگے بڑھ کر انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی اور پیشگی کارروائی پر مبنی جدید نظام کو اپنایا ہے۔وفد کو بتایا گیا کہ سی ٹی ڈی کی استعدادِ کار، موبیلٹی، فائر پاور، سرویلنس، ٹیکنیکل صلاحیت اور آپریشنل انفراسٹرکچر میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ جدید ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹمز، APCs، تھرمل و نائٹ وژن آلات، جیمبرز اور دیگر جدید ٹیکٹیکل وسائل سے انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت مزید مضبوط بنائی جارہی ہے۔اجلاس میں وفد کے ارکان کو پولیس سٹیشنز، چوکیوں اور حساس تنصیبات کی فورٹیفکیشن، بلٹ پروفنگ اور محفوظ پولیس انفراسٹرکچر کے اقدامات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔
شرکاکو بتا یا گیا کہ سی ٹی ڈی کے ریجنل و ضلعی سطح پر مزید توسیع اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سہولیات کے قیام کو بھی آئندہ حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا گیا۔اسی طرح ڈرون ٹیکنالوجی، اینٹی ڈرون صلاحیت، CCTV نگرانی، ایریل سرویلنس، تھرمل امیجنگ، ڈیجیٹل انٹیلی جنس اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کے استعمال پر بھی روشنی ڈالی گئی۔وفد کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ دہشت گردوں سے ایک قدم آگے رہنا ہی موجودہ سکیورٹی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ہے۔ روایتی پولیسنگ سے بدلتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی، تربیت، فورٹیفکیشن اور تیز رفتار رسپانس کو مزید موثر بنایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو حملہ کرنے کا موقع دینے کے بجائے ان کے منصوبوں کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر پہلے ہی ناکام بنانا خیبر پختونخوا پولیس کی ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے سی ٹی ڈی اور دیگر متعلقہ اداروں کی صلاحیتوں کو مسلسل اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔بروقت معلومات، درست تجزیہ اور فوری آپریشنل ایکشن دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف موثر ترین ہتھیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے اور اپنے شہداءکی قربانیوں کو اپنی طاقت بناتے ہوئے جدیدٹیکنالوجی سے لیس اور پیشہ ورانہ پولیس فورس کے طور پر مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔
وفد کے ارکان نے تفصیلی بریفنگ پر آئی جی پی اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور دہشت گردی کے خلاف خیبر پختونخوا پولیس کی لازاول قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے بریفنگ کی روشنی میں آئی جی پی سے چند سوالات بھی پوچھے جس کا آئی جی پی نے تفصیلی جوابات دیئے۔اس موقع پر شیلڈز کا تبادلہ بھی ہوا۔









