پاکستان اور جنوبی کوریا کا معیاری آلو کے بیج کی مقامی پیداوار کی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور زرعی پیداوار میں اضافے میں معاون ثابت ہو رہا ہے، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان اور جنوبی کوریا کا تعاون پاکستان میں بیماریوں سے پاک اور معیاری آلو کے بیج کی مقامی پیداوار کی صلاحیت کو مضبوط بنانے، درآمدی بیج پر انحصار کم کرنے اور زرعی پیداوار میں اضافے میں معاون ثابت ہو رہا ہے

اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان اور جنوبی کوریا کا تعاون پاکستان میں بیماریوں سے پاک اور معیاری آلو کے بیج کی مقامی پیداوار کی صلاحیت کو مضبوط بنانے، درآمدی بیج پر انحصار کم کرنے اور زرعی پیداوار میں اضافے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔قومی زرعی تحقیق مرکز (نارک) میں پاکستان اور جنوبی کوریا کے باہمی تعاون سے مصدقہ آلو کے بیج کی پیداوار کے منصوبے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ آلو کے شعبے کے لیے ایک پائیدار مقامی بیج نظام کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید طریقہ پیداوار بالخصوص ایروپونک ٹیکنالوجی، کے استعمال سے کسانوں کے لیے صحت مند اور معیاری بیج کی دستیابی یقینی بنانے، آلو کی پیداوار بڑھانے اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔پاکستان اور جنوبی کوریا کے تعاون سے جاری منصوبے کا مقصد مصدقہ آلو کے بیج کی پیداوار و فراہمی، جدید ایروپونک انفراسٹرکچر کی ترقی اور تکنیکی استعداد کار میں اضافہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے سالانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار ٹن مصدقہ آلو کے بیج کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا ہے جس سے ملک کی بیج کی ضرورت کا ایک اہم حصہ مقامی طور پر پورا کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام صرف تحقیقی مراکز تک محدود نہیں رہے گا بلکہ جدید زرعی ٹیکنالوجیز کو کسانوں اور نجی شعبے تک منتقل کیا جائے گا۔ اس اقدام سے سائنسی تحقیق اور عملی زرعی پیداوار کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے اور آلو کی پیداوار کے ایک مضبوط اور مسابقتی نظام کی تشکیل میں مدد ملے گی۔وفاقی وزیر نے حکومت جنوبی کوریا اور کوریا پروگرام برائے بین الاقوامی زراعت (کوپیا) کے تکنیکی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ منصوبے میں ہونے والی پیش رفت اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان اور جنوبی کوریا کا تعاون ملک کو درپیش زرعی مسائل کے حل میں موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی کوریا کے ساتھ سمارٹ زراعت، باغبانی، مویشی پالنے، زرعی مشینی کاری اور دیگر جدید شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دے گا۔جنوبی کوریا کے سفیر نے زراعت، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان اور جنوبی کوریا کے دیرینہ تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مصدقہ آلو کے بیج کا منصوبہ دونوں ممالک کے باہمی تعاون کی ایک عملی مثال ہے جس کے ثمرات براہ راست کسانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے جدید زرعی ٹیکنالوجی، علم کے تبادلے اور استعداد کار میں اضافے کے شعبوں میں مزید تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔چیئرمین پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک) ڈاکٹر مرتضیٰ حسن اندرابی نے کہا کہ پارک اور نارک پاکستان کو درپیش زرعی مسائل کے لیے تحقیق پر مبنی حل تیار کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جنوبی کوریا کی شراکت داری سے ملک میں مصدقہ بیج کی پیداوار کے نظام کو مضبوط بنانے اور ایسی جدید ٹیکنالوجیز متعارف کرانے میں مدد مل رہی ہے جو زرعی پیداوار میں اضافے اور درآمدی بیج پر انحصار کم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے زرعی مشینی کاری، سمارٹ زراعت، مویشی پالنے اور باغبانی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اس موقع پر شرکا کو پاکستان اور جنوبی کوریا کے تعاون سے جاری مصدقہ آلو کے بیج کے منصوبے پر پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور ایروپونک اور سکرین ہائوس سہولیات کا دورہ بھی کیا گیا جہاں جاری تحقیق، بیج کی افزائش اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔یہ منصوبہ پاکستان اور جنوبی کوریا کے زرعی تعاون میں ایک اہم پیش رفت ہے جس کے تحت جنوبی کوریا کی جدید تکنیکی مہارت اور پاکستان کی زرعی تحقیقی صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہوئے معیاری آلو کے بیج کی مقامی پیداوار کے ایک مضبوط اور پائیدار نظام کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔