خواتین کی معاشی خودمختاری خاندانوں کومضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے،گورنر بلوچستان

گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے وزیراعظم پاکستان پروگرام کے تحت بلا سود قرضوں کی ادائیگی سے خواتین میں معاشی خودانحصاری کو فروغ مل رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ’’خواتین کاروباری شخصیات کیلئے پائیدار ایکو سسٹم‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کوئٹہ۔ 16 ستمبر (اے پی پی):گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے وزیراعظم پاکستان پروگرام کے تحت بلا سود قرضوں کی ادائیگی سے خواتین میں معاشی خودانحصاری کو فروغ مل رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ’’خواتین کاروباری شخصیات کیلئے پائیدار ایکو سسٹم‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کبھی، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی، ایڈوائزر ٹو چیف منسٹر ربابہ بلیدی، سابقہ سینٹر روشن خورشید بروچہ، پاکستان پاورٹی ایلیوشن فنڈز کے سربراہ نادرگل بڑیچ، پارلیمانی سیکرٹری محمد خان لہڑی، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز، بی آر ایس پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید، محترمہ قرتالعین اور سی پی ڈی کے سربراہ نصراللہ بڑیچ سمیت خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

پی پی اے ایف کے زیر اہتمام ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ واضح رہے کہ سیمینار میں اعلیٰ سرکاری حکام، ترقیاتی شراکت داروں، مالیاتی اداروں، تعلیمی شعبے، سول سوسائٹی، نجی شعبے، میڈیا اور خواتین کاروباری شخصیات بھی شریک تھیں۔ انہوں نے خواتین کیلئے تعلیم، ہنرمندی، مالی معاونت، ٹیکنالوجی، مارکیٹ تک رسائی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری خاندانوں کو مضبوط، معاشروں کو زیادہ مستحکم اور مجموعی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

گورنر مندوخیل نے کہا خواتین، خصوصاً دیہی اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو درپیش رکاوٹوں کا ازالہ ضروری ہے۔ خواتین کو مناسب پلیٹ فارمز، وسائل اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنا اسلئے ضروری ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں اور کاروباری استعداد کو پائیدار روزگار کے ذرائع میں تبدیل کر سکیں۔ انہوں نے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (PPAF) کی بلاسود قرضوں کی فراہمی میں کاوشوں** کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات محض مالی معاونت تک محدود نہیں بلکہ خواتین کو روزگار فراہم کرنے والی اور معاشی طور پر خودمختار بنانے میں بھی معاون ہیں۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم کے مواقع کو مزید وسعت دینے اور خواتین کیلئے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں پروفیشنل ٹریننگ اور کوئٹہ میں اسلامیہ خواتین یونیورسٹی کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کیلئے میں امریکہ سے پاکستانی سرمایہ کاروں اور مخیر حضرات کو لاوں گا۔

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے پاکستان کے ثقافتی ورثے، روایتی فنون، دستکاری اور تخلیقی معیشت میں خواتین کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خواتین کی مہارتوں اور خدمات کو تسلیم کرنے اور انہیں ثقافتی و روایتی علم کو پائیدار معاشی سرگرمیوں میں تبدیل کرنے کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کے متنوع ثقافتی ورثے کے تحفظ اور ملک کے سماجی و معاشی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں خواتین کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ سیمینار کے دوران پی پی اے ایف کے بااختیار پروجیکٹ کے تحت ٹریننگ مکمل کرنے والی خواتین میں اسناد، بلاسود قرضوں کے چیکس اور دخترانِ پاکستان ایکسیلنس ایوارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔