گلگت بلتستان کو صحت، تعلیم، بجلی، سڑکوں، پانی، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا ہے، حافظ حفیظ الرحمٰن

قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی حافظ حفیظ الرحمٰن اسمبلی کی زیرِ صدارت پارلیمانی اپوزیشن ممبران کا اہم اجلاس منعقد ہوا

گلگت۔ 16 ستمبر (اے پی پی):قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی حافظ حفیظ الرحمٰن اسمبلی کی زیرِ صدارت پارلیمانی اپوزیشن ممبران کا اہم اجلاس منعقد ہوا،جس میں گلگت بلتستان کے بجٹ 2026-27 کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بجٹ کے مختلف شعبوں،ترقیاتی منصوبوں، غیر ترقیاتی اخراجات،عوامی فلاح و بہبود،صحت،تعلیم، انفراسٹرکچر،روزگار اور بنیادی سہولیات سے متعلق امور پر مشاورت کی گئی۔اپوزیشن ممبران نے اپنے اپنے حلقوں میں عوام کو درپیش مسائل اور ضروریات کو بھی زیرِ بحث لاتے ہوئے بجٹ میں ان کے مؤثر حل کے لیے تجاویز پیش کیں۔اس موقع پر قائد حزب اختلاف نے کہا کہ بجٹ محض اعداد و شمار کی دستاویز نہیں بلکہ حکومت کی ترجیحات، انتظامی صلاحیت اور عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کا عملی اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بجٹ میں محدود مالی وسائل کو غیر ضروری اخراجات کے بجائے ایسے منصوبوں پر صرف کیا جائے جن کے براہِ راست اور دیرپا اثرات عام آدمی کی زندگی پر مرتب ہوں۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو وسائل کی کمی کے ساتھ صحت، تعلیم، بجلی، سڑکوں، پانی، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ موجودہ حالات میں ایک حقیقت پسندانہ، ترجیحات پر مبنی اور قابلِ عمل بجٹ وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ دستیاب وسائل سے زیادہ سے زیادہ عوامی ریلیف یقینی بنایا جا سکے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اپوزیشن کا کردار محض مخالفت برائے مخالفت نہیں بلکہ عوامی مفاد کی نگرانی،حکومت کی پالیسیوں پر تعمیری تنقید اور بہتر متبادل تجاویز پیش کرنا ہے۔ اپوزیشن بجٹ کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اور جہاں عوامی مفاد میں مثبت اقدامات ہوں گے، ان کی حمایت کرے گی، جبکہ عوامی مفاد کے منافی یا غیر واضح معاملات پر پارلیمانی فورم پر مؤثر آواز اٹھائی جائے گی۔اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جانی چاہیے جو پہلے سے جاری ہیں، جن پر خطیر رقم خرچ ہو چکی ہے اور جن کی تکمیل سے عوام کو فوری فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں اور پسماندہ حلقوں کو بھی ترقیاتی عمل میں مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں شفافیت، میرٹ، مالیاتی نظم و ضبط اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو بنیادی اصول بنایا جائے۔ ہر ترقیاتی سکیم کے لیے واضح اہداف، مالی وسائل اور ٹائم لائن مقرر ہونی چاہیے تاکہ سرکاری وسائل ضائع ہونے کے بجائے عوامی فلاح پر خرچ ہوں۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اپوزیشن پارلیمانی فورم پر بجٹ 2026-27 کا جائزہ لے کر عوامی مفاد سے متعلق تجاویز مرتب کرے گی اور گلگت بلتستان کے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا آئینی، جمہوری اور پارلیمانی کردار بھرپور انداز میں ادا کرے گی۔