پاکستان ایکسٹرا ورجن زیتون کے تیل اور عوامی صحت کے فروغ کے لیے عالمی اتحاد کا حصہ بن گیا

پاکستان نے لزبن منشور ’’ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل: عالمی صحت کے لیے سائنسی شواہد‘‘ کی حمایت کرنے والے بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ وزارت غذائی تحفظ سے جاری بیان کے مطابق یہ منشور اولیو آئل ورلڈ کانگریس 2026 کے بعد جاری کیا گیا

اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے لزبن منشور ’’ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل: عالمی صحت کے لیے سائنسی شواہد‘‘ کی حمایت کرنے والے بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ وزارت غذائی تحفظ سے جاری بیان کے مطابق یہ منشور اولیو آئل ورلڈ کانگریس 2026 کے بعد جاری کیا گیا جو زیتون کے تیل، غذائیت اور عوامی صحت سے متعلق عالمی تحقیق اور پالیسی اقدامات میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔چار براعظموں کے 18 ممالک کی 60 سے زائد تنظیموں جن میں جامعات، تحقیقی مراکز، کاشتکار تنظیمیں، صنعتی و شعبہ جاتی ادارے اور حکومتی نمائندگان شامل ہیں، نے اس منشور کی توثیق کی ہے۔ پاکستان کی شرکت ملک میں زیتون کے شعبے کی ترقی اور زرعی پیداوار، غذائیت، تحقیق اور عوامی صحت کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ لزبن منشور میں پاکستان کی شرکت حکومت کے اس عزم کی عکاس ہے کہ زرعی ترقی کو غذائیت، سائنسی تحقیق اور عوامی صحت کے ساتھ مربوط کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایکسٹرا ورجن زیتون کے تیل کی غذائی اہمیت کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی پاکستان کے لیے اپنے زیتون کے شعبے کو جدید تحقیق، بہتر پیداواری طریقوں، معیاری نظام اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے مزید ترقی دینے کا ایک اہم موقع ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان زیتون کی مکمل ویلیو چین کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے جس میں کاشت، معیاری پودوں کی فراہمی، پراسیسنگ، سرٹیفیکیشن، مارکیٹنگ اور صارفین میں آگاہی شامل ہے تاکہ اس شعبے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت سے کاشتکار بھی مستفید ہو سکیں۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان میں مسابقتی اور پائیدار زیتون کی صنعت کے فروغ کے لیے سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے زیتون کے تیل اور اس کی غذائی خصوصیات پر شواہد پر مبنی تحقیق کے فروغ کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں اور تحقیقی اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان زرعی تحقیقی اداروں، جامعات، کاشتکاروں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دے گا تاکہ زیتون کی پیداوار میں اضافہ اور پاکستانی زیتون کے تیل کے معیار اور مارکیٹ میں اس کی رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ زیتون کے شعبے کی ترقی سے زرعی تنوع، کاشتکاروں کے روزگار اور غذائی تحفظ میں بہتری کے ساتھ ساتھ ویلیو ایڈیشن اور نئی منڈیوں کے قیام کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔لزبن منشور میں ایکسٹرا ورجن زیتون کے تیل کو غذائی چکنائی کے ذرائع میں ترجیح دینے اور دائمی غیر متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے عوامی صحت کی حکمت عملیوں میں اس کے کردار کو مدنظر رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ منشور میں متوازن غذا کے تناظر میں ایکسٹرا ورجن زیتون کے تیل کی غذائی اور حیاتیاتی خصوصیات بالخصوص اس میں موجود پولی فینولز سے متعلق سائنسی شواہد کو اجاگر کیا گیا ہے۔منشور میں تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ، ہسپتالوں، نگہداشت کے مراکز اور سکولوں کی کینٹینز جیسے عوامی اداروں میں معیاری زیتون کے تیل کی دستیابی بہتر بنانے اور معیار، اصلیت، سراغ رسانی اور صارفین کو معلومات کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔منشور کے دستخط کنندگان اسے اپنی متعلقہ حکومتوں، صحت کے نظام اور متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کریں گے جبکہ اولیو آئل ورلڈ کانگریس اسے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) اور پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن (پی اے ایچ او) سمیت بین الاقوامی اداروں کے سامنے غور کے لیے پیش کرے گی۔