چیئرمین محمد ادریس کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کا اجلاس، ہری پور میں آلات کے استعمال کی تحقیقات اور پڈھانہ گرڈ سٹیشن پر رپورٹ طلب

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پاور ڈویژن نے ضلع ہری پور کے لئے خریدے گئے کھمبوں، ٹرانسفارمرز اور دیگر آلات کے مبینہ طور پر غیرقانونی استعمال کے معاملے کی جامع تحقیقات کی سفارش کرتے ہوئے مزید غور کے لئے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی

اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پاور ڈویژن نے ضلع ہری پور کے لئے خریدے گئے کھمبوں، ٹرانسفارمرز اور دیگر آلات کے مبینہ طور پر غیرقانونی استعمال کے معاملے کی جامع تحقیقات کی سفارش کرتے ہوئے مزید غور کے لئے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔قائمہ کمیٹی کااجلاس بدھ کو چیئرمین محمد ادریس کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں 3 جون 2026 کو ہونے والے گزشتہ اجلاس کے منٹس کی توثیق اور سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا تاہم اس حوالے سے مزید کوئی سفارش نہیں کی گئی۔کمیٹی نے ضلع کولائی پالس کوہستان میں متاثرہ گھرانوں کو تقریباً 44.559 ملین روپے معاوضے کی ادائیگی اور تحصیل پٹن، ضلع لوئر کوہستان میں ٹاور نمبر 123-124 اور 141-142 کے درمیان 132 کلو وولٹ ٹرانسمیشن لائن کے نیچے یا قریب واقع سات مکانات کے معاوضے کا معاملہ بھی زیر غور لایا۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ متاثرہ مکانات سابقہ سروے سے قبل موجود تھے اور معاوضے کا معاملہ واپڈا (داسو) سے متعلق ہے۔ کمیٹی نے نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این جی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر کو متعلقہ مکمل فائل کی واضح نقل فراہم کرنے کی ہدایت کی اور سفارش کی کہ معاملہ ضروری کارروائی اور متاثرہ افراد کو ادائیگی کے لئے واٹر ریسورسز ڈویژن کو بھجوایا جائے۔کمیٹی نے ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (ہیزیکو) اور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) میں ٹرانسفارمرز کی دستیابی اور تنصیب، ضلع ہری پور میں مجوزہ 132 کلو وولٹ گرڈ اسٹیشن پڈھانہ اور خانپور گرڈ اسٹیشن میں 40 ایم وی اے ٹرانسفارمر کی فراہمی سے متعلق امور بھی زیر غور لائے۔ تفصیلی غور کے بعد کمیٹی نے وزیر پاور ڈویژن کی جانب سے پڈھانہ میں 132 کلو وولٹ گرڈ اسٹیشن کے قیام سے متعلق جامع رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی توثیق کردی۔ رپورٹ ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن کی خصوصی نگرانی میں تیار کرکے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ کمیٹی نے ہری پور کے سرائے صالح میں گرڈ سٹیشن کے قیام سے متعلق مسائل کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی وزیر پاور ڈویژن کی ہدایت سے بھی اتفاق کیا۔کمیٹی نے بجلی کے وولٹیج میں اتار چڑھاؤ،ٹرانسفارمرز کی کمی اور خستہ حالی، لوڈشیڈنگ اور ترسیلی و تقسیمی نظام کے نقائص پر بھی غور کیا۔وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق اپنے انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ پلانز نیپرا کو جمع کرائیں تاکہ صارفین کو درپیش انفراسٹرکچر سے متعلق مسائل حل کئے جاسکیں۔ کمیٹی نے خصوصاً طویل فاصلے والے فیڈرز پر لوڈشیڈنگ میں کمی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔کمیٹی نے بجلی کے نرخوں، صارفین کی شکایات، بلنگ کے مسائل اور 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والےصارفین کے لئے دستیاب سبسڈی پر بھی غور کیا۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں 200 یونٹ کی سبسڈی کے استعمال اور اس سے مستفید ہونے والے صارفین کی تفصیلی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے آئی پی پیز کے معاہدوں، بجلی کی قیمتوں اور مذاکرات کی موجودہ صورتحال سے متعلق امور کو بھی آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لئے سبسڈی سے استفادہ کرنے کی 6 ماہ کی مدت کی حد ختم کرنے، رہائشی مکانات کے اوپر سے گزرنے والی بجلی کی تاریں ہٹانے اور عوام کو درپیش بجلی سے متعلق مسائل کے حل کے لئے حلقوں میں 50 کے وی اے اور 100 کے وی اے ٹرانسفارمرز فراہم کرنے کی تجاویز کی توثیق کی۔ کمیٹی نےبیٹری اسٹوریج سسٹمز اورمستقبل میں گھریلو بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ورچوئل گرڈ سٹیشنز کی ترقی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔چیئرمین نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس یکم اکتوبر کو منعقد کیا جائے جس میں سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) سے متعلق عوامی اہمیت کے امور زیر غور لائے جائیں گے۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری،ارکان قومی اسمبلی بابر نواز خان، شیخ آفتاب احمد، راجہ قمر الاسلام، چوہدری نصیر احمد عباس، رانا محمد حیات خان،محمد شہریار خان مہر، سید ابرار علی شاہ، سید وسیم حسین اور سنجے پروانی نے شرکت کی۔اجلاس میں پاور ڈویژن، ہیزیکو، پیسکو، لیسکو، حیسکو اور پی پی ایم سی کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔