لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں "ایکسپورٹ ڈاکیومینٹیشن اور ایف بی آر ریگولیٹری ریکوائرمنٹس ” کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا، جس کا مقصد کاروباری برادری کو ریگولیٹری طریقہ کار، ضروری دستاویزات، ٹیکس سے متعلق تقاضوں اور سرکاری اداروں کے سہولت کاری کے کردار سے آگاہ کرنا تھا۔لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے سیمینار کی صدارت کی جبکہ چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے …
ایکسپورٹ ڈاکیومینٹیشن اور ایف بی آر ریگولیٹری تقاضوں پر لاہور چیمبر میں سیمینار

مزید خبریں
لاہور۔16ستمبر (اے پی پی):لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں "ایکسپورٹ ڈاکیومینٹیشن اور ایف بی آر ریگولیٹری ریکوائرمنٹس ” کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا، جس کا مقصد کاروباری برادری کو ریگولیٹری طریقہ کار، ضروری دستاویزات، ٹیکس سے متعلق تقاضوں اور سرکاری اداروں کے سہولت کاری کے کردار سے آگاہ کرنا تھا۔لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے سیمینار کی صدارت کی جبکہ چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے خصوصی شرکت کی۔
ایگزیکٹو کمیٹی ممبران فردوس نثار، ادریس اصغر، رفعت ملک اور نیلوفر سکندر بھی موجود تھے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات تقریبا 30 ارب ڈالر کی سطح پر رکی ہوئی ہیں جبکہ خطے کے دیگر ممالک ہم سے کہیں زیادہ برآمدات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام کی برآمدات تقریبا 500 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، اس لیے پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانے اور عالمی منڈی میں مسابقت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کا زیادہ ٹیرف کاروبار اور برآمد کنندگان کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ کاروباری لاگت کم کیے بغیر پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں موثر طور پر مقابلہ کروانا مشکل ہوگا۔
فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل نے برآمدات بڑھانے کے لیے نئے شعبوں پر کام شروع کیا ہے تاہم اس کے ساتھ کاروبار دوست ریگولیٹری نظام، آسان طریقہ کار اور سرکاری اداروں کی موثر سہولت کاری بھی ضروری ہے۔لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ تمام سرکاری اداروں کو تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اس لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان بہتر رابطہ ضروری ہے تاکہ ریگولیٹری رکاوٹیں دور، طریقہ کار آسان اور سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور برآمدات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
اس موقع پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے کہا کہ قوانین پر موثر عملدرآمد، واضح طریقہ کار اور ذمہ دار سرکاری ادارے خواتین کے لیے محفوظ اور بہتر کاروباری و پیشہ ورانہ ماحول کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو سرکاری اداروں سے رابطے اور اپنی شکایات کے اندراج کے لیے آسان اور موثر طریقہ کار میسر ہونا چاہیے اور انہیں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم برداشت نہیں کیے جائیں گے اور خواتین سے تشدد یا زیادتی کے مقدمات میں ایف آئی آر کا اندراج لازمی قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 15 ایمرجنسی سروس اور ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن کے ذریعے خواتین کو شکایات درج کرانے اور مدد حاصل کرنے کے لیے آسان ذرائع فراہم کیے گئے ہیں۔ سیف سٹی اتھارٹی کی ٹیکنالوجی کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی میں بھی مدد لی جا رہی ہے جبکہ پولیس کلچر میں اصلاحات کے ذریعے عوامی شکایات پر ردعمل بہتر بنانے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین سے متعلق کیسز کو ترجیح دی جا رہی ہے اور پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی نے اوپن کچہریوں کا آغاز کیا ہے جہاں خواتین کو ایک ہی جگہ پر مختلف سہولیات اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت کے مطابق خواتین کو شیلٹر، نفسیاتی معاونت اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جبکہ ایسی خواتین جو اپنے گھر میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتیں، انہیں متبادل محفوظ رہائش فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گھریلو تشدد کو فوجداری جرم کے طور پر لیا جاتا ہے اور ادارہ جاتی نظام کو مزید موثر بنانا ضروری ہے۔








