سی ٹی پی میں ناکامی کے بعد نئے بیچ میں کامیابی، سنیارٹی پہلے بیچ کے ساتھ نہیں مل سکتی، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ لازمی کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) کامیابی سے مکمل نہ کرنے والا پروبیشنر پہلے بیچ کے افسران کے ساتھ سنیارٹی کا دعویٰ نہیں کر سکتا، سنیارٹی اس بیچ کے مطابق مقرر ہوگی جس میں پروبیشنر نے سی ٹی پی کامیابی سے مکمل کیا ہو۔جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے وفاق …

اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ لازمی کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) کامیابی سے مکمل نہ کرنے والا پروبیشنر پہلے بیچ کے افسران کے ساتھ سنیارٹی کا دعویٰ نہیں کر سکتا، سنیارٹی اس بیچ کے مطابق مقرر ہوگی جس میں پروبیشنر نے سی ٹی پی کامیابی سے مکمل کیا ہو۔جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے وفاق کی سول پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کرلیا اور وفاقی سروس ٹریبونل کا 11 دسمبر 2023ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ سنیارٹی کوئی موروثی یا بنیادی حق نہیں بلکہ متعلقہ قوانین اور قواعد کے تحت طے کی جاتی ہے، سول سرونٹ قانونی تقاضا پورا کرنے میں ناکامی کی صورت میں پہلے بیچ کے افسران کے ساتھ سنیارٹی کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔فیصلے کے مطابق پولیس سروس آف پاکستان کے پروبیشنر کامران خان نے 44ویں سی ٹی پی میں شرکت کی تاہم اسے کامیابی سے مکمل نہ کرسکے جس کے بعد انہیں 45ویں سی ٹی پی میں دوبارہ تربیت حاصل کرنے کا موقع دیا گیا۔ 45ویں سی ٹی پی کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد ان کی سنیارٹی 45ویں بیچ کے مطابق مقرر کی گئی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ 1990ء کے قواعد کے قاعدہ 7 کے تحت پروبیشنرز کی سنیارٹی فائنل پاسنگ آئوٹ امتحان کے بعد مقرر کی جاتی ہے جبکہ سنیارٹی کے تعین کے لیے کامیابی سے تربیتی پروگرام مکمل کرنا بنیادی تقاضا ہے۔

عدالت نے کہا کہ اگر پروبیشنر لازمی سی ٹی پی میں ناکام ہوجائے اور بعد میں اگلے تربیتی پروگرام میں کامیابی حاصل کرے تو اس کی سنیارٹی نئے بیچ کے مطابق مقرر ہوگی۔ پہلے بیچ میں صرف شرکت کرنے سے پہلے بیچ کے افسران کے ساتھ سنیارٹی کا حق پیدا نہیں ہوتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی سروس ٹریبونل نے 22 اکتوبر 2015ء کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے دفتری یادداشت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 1990ء کے قواعد کی متعلقہ شقوں کا درست جائزہ نہیں لیا۔ مذکورہ دفتری یادداشت 1990ء کے قواعد سے ہم آہنگ تھی اور اس میں سنیارٹی کے تعین کے لیے قواعد کے برخلاف کوئی نئی شرط عائد نہیں کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ اصل سی ٹی پی میں شمولیت کی تاریخ سے ملازمت کی مدت کو تنخواہ کے تعین کے لیے شمار کرنا صرف مالی فائدہ ہے، اس بنیاد پر پہلے بیچ کے ساتھ سنیارٹی کا حق پیدا نہیں ہوتا۔عدالت نے قرار دیا کہ کامران خان کو ملازمت سے فارغ کرنے کے بجائے اگلے سی ٹی پی میں کامیابی حاصل کرنے کا موقع دیا گیا، اس رعایت کو پہلے بیچ کے ساتھ سنیارٹی کے حق میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔سپریم کورٹ نے وفاقی سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کامران خان کی سروس اپیل خارج کردی۔