سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی شخص کے خلاف درج فوجداری مقدمہ سی کلاس میں ختم ہوجانے سے ازخود ہتک عزت کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا، ایسے معاملے میں فریق کو بدنیتی پر مبنی قانونی کارروائی کے دعوے کے لیے الگ قانونی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے الطاف حسین و دیگر …
فوجداری مقدمہ ختم ہونا ازخود ہتک عزت کا دعویٰ ثابت نہیں کرتا، سپریم کورٹ
اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی شخص کے خلاف درج فوجداری مقدمہ سی کلاس میں ختم ہوجانے سے ازخود ہتک عزت کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا، ایسے معاملے میں فریق کو بدنیتی پر مبنی قانونی کارروائی کے دعوے کے لیے الگ قانونی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے الطاف حسین و دیگر کی جانب سے بائر کراپ سائنس پاکستان کے خلاف دائر سول پٹیشن خارج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سندھ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ہتک عزت کے دعوے کی بنیاد کسی توہین آمیز بیان یا الزام کی تیسرے شخص تک اشاعت ہے اور مدعی کو یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ مبینہ اشاعت کا ذمہ دار مدعا علیہ تھا۔ صرف اخبارات میں فوجداری کارروائی سے متعلق خبر شائع ہوجانے کی بنیاد پر کسی فریق کو ہتک عزت کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ 16 جولائی 2008ء کو ان کی زرعی ادویات کی دکان پر چھاپہ مارا گیا، کیڑے مار ادویات ضبط کی گئیں اور جعلی ادویات فروخت کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ درخواست گزاروں کے مطابق بعد میں حیدرآباد کی کیڑے مار ادویات کے معیار کی جانچ کرنے والی لیبارٹری نے نمونے اصلی قرار دیئے اور ایف آئی آر سی کلاس میں ختم کر دی گئی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار نہ ٹرائل کورٹ اور نہ ہی ہائی کورٹ کے سامنے شواہد کے ذریعے یہ ثابت کرسکے کہ اخباری رپورٹس کی اشاعت میں مدعا علیہان کا کوئی کردار تھا۔ متعلقہ اخبارات کے ایڈیٹرز، ناشرین یا نمائندوں کو بھی فریق نہیں بنایا گیا اور نہ ہی ان کا بطور گواہ معائنہ کیا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر شکایت کا اصل تعلق فوجداری مقدمہ درج کرانے اور مبینہ بدنیتی پر مبنی کارروائی سے ہو تو مناسب قانونی چارہ جوئی بدنیتی پر مبنی قانونی کارروائی کا دعویٰ ہے، اسے محض ہتک عزت کا نام دے کر مختلف قانونی تقاضوں سے بچا نہیں جاسکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ بدنیتی پر مبنی قانونی کارروائی ثابت کرنے کے لیے یہ دکھانا ضروری ہے کہ کارروائی بدنیتی اور معقول و قابل قبول قانونی جواز کے بغیر شروع کی گئی تھی۔
صرف فوجداری کارروائی کے درخواست گزار کے حق میں ختم ہوجانے سے بدنیتی پر مبنی قانونی کارروائی ثابت نہیں ہوتی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ کیس میں کراچی کی کیمیکل لیبارٹری نے 20 اکتوبر 2008ء کی رپورٹ میں 16 جولائی 2008ء کو ضبط کیے گئے نمونے کو جعلی قرار دیا تھاجبکہ حیدرآباد کی مقامی لیبارٹری کی رپورٹ میں نمونوں کو اصلی قرار دیا گیا۔ کراچی لیبارٹری کی رپورٹ کو درخواست گزاروں نے چیلنج بھی نہیں کیا۔عدالت نے کہا کہ دونوں سرکاری لیبارٹریوں کی متضاد رپورٹس کی موجودگی اس امر کی نفی کرتی ہے کہ فوجداری کارروائی شروع کرنے کے لیے کوئی معقول اور قابل قبول بنیاد موجود نہیں تھی۔ اس لیے بدنیتی پر مبنی قانونی کارروائی کے بنیادی قانونی تقاضے بھی پورے نہیں ہوتے۔
فیصلے کے مطابق ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے تحت دعویٰ دائر کرنے کے لیے مقررہ مدت اور پیشگی قانونی نوٹس کے تقاضے بھی موجود ہیں۔ درخواست گزاروں نے قانونی نوٹس 15 ماہ کی تاخیر سے جبکہ دعویٰ 20 ماہ سے زائد تاخیر کے بعد دائر کیا جس کی وجہ سے دعویٰ مدت کی پابندی سے بھی متاثر تھاسپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے بیک وقت فیصلوں میں کوئی قانونی خامی موجود نہیں، لہٰذا سول پٹیشن خارج اور اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔









