اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63 ویں اجلاس کے موقع پر ایک کشمیری وفد نے عالمی برادری کی توجہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی جانب مبذول کرانے کے لیے ایک خصوصی نمائش کا اہتمام کیا ہے۔
عالمی برادری کی توجہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی جانب مبذول کرانے کیلئے خصوصی نمائش کا اہتمام
جنیوا ۔17ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63 ویں اجلاس کے موقع پر ایک کشمیری وفد نے عالمی برادری کی توجہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی جانب مبذول کرانے کے لیے ایک خصوصی نمائش کا اہتمام کیا ہے۔
اس نمائش کا بنیادی مقصد دنیا کو یہ بتانا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں نہ صرف انسانی حقوق کی کھلے عام پامالیاں ہو رہی ہیں، بلکہ بھارت اب وہاں کی قدیم ثقافت اور شناخت کو بھی مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔نمائش کے دوران خصوصی بینرز اور پوسٹرز لگائے گئے ہیں جن کے ذریعے کشمیری اسیر رہنمائوں کی حالت زندان اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں عام شہریوں پر ہونے والے مظالم کی عکاسی کی گئی ہے۔
آرٹ کے ذریعے کشمیر کی موجودہ صورتحال کو اجاگر کیا گیا ہے تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔اس کے ساتھ ساتھ وفد نے ایک خصوصی ٹینٹ اور کشمیری کلچر و دستکاری کا سٹال بھی لگایا ہے۔ اس سٹال کے ذریعے کشمیر کی بھرپور ثقافت، روایات اور فن دستکاری کو اجاگر کیا گیا ہے جو صدیوں سے کشمیریوں کی پہچان رہا ہے۔وفد کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نہ صرف سیاسی اور انسانی حقوق کی پامالی کر رہی ہے بلکہ اب وہ ایک ’’ثقافتی یلغار‘‘ کے ذریعے کشمیر کی مخصوص شناخت کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔
یہ نمائش اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری قوم اپنی ثقافت، شناخت اور آزادی کے حق پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔کشمیری وفد نے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت فراہم کرنے کے لیے بھارت پر دبائو ڈالیں۔









