کراچی انڈسٹریل پارک کیلئے اراضی کی لیز اور مراعاتی پیکیج کی تیاری حتمی مراحل میں داخل، برآمدات پر مبنی صنعتی پیکج جلد متعارف کروایا جائے گا ، کراچی انڈسٹریل پارک کی ترقی سے متعلق اجلاس میں فیصلے

وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے کہاہے کہ کراچی انڈسٹریل پارک کی ترقی کا عمل تیز کرنے اور اسے ملکی برآمدات و معاشی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے والے صنعتی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مربوط تعاون ناگزیر ہے۔

اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے کہاہے کہ کراچی انڈسٹریل پارک کی ترقی کا عمل تیز کرنے اور اسے ملکی برآمدات و معاشی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے والے صنعتی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مربوط تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں کراچی انڈسٹریل پارک کی ترقی سے متعلق ایک اعلی سطح کے اجلاس میں کہی۔ اجلاس میں برآمدی صنعتوں کے قیام اور صنعتی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مجوزہ لینڈ لیز ماڈل اور مراعاتی پیکیج کا جائزہ لیا گیا،یہ پیکیج تیاری کے حتمی مراحل میں ہے اور اسے جلد متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کراچی انڈسٹریل پارک کی ترقی کا عمل تیز کرنے اور صنعتی یونٹس کو جلد از جلد فعال بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ مجوزہ پیکیج میں برآمدی صنعتوں کو ترجیح دی جائے اور اراضی کی الاٹمنٹ اور متعلقہ مراعات کو برآمدات سے متعلق واضح شرائط سے مشروط کیا جائے تاکہ یہ منصوبہ ملکی برآمدات میں اضافے کا موثر ذریعہ بن سکے۔اجلاس میں صنعتی پارک کی ترقی اور سرمایہ کاری کے مختلف ماڈلز کا جائزہ لیا گیا جن میں اراضی کی لیز کا مجوزہ پیکیج بھی شامل تھا۔ اس پیکیج کا مقصد مسابقتی مراعات کے ذریعے صنعتی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور اراضی کی الاٹمنٹ و متعلقہ رعایتوں کو برآمدی اہداف کی تکمیل سے مشروط کرنا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی انڈسٹریل پارک کی ترقی کو ملک کے وسیع تر معاشی اہداف بالخصوص برآمدات میں اضافے، صنعت کاری کے فروغ اور دستیاب اراضی کے موثر استعمال سے ہم آہنگ کیا جائے۔

اجلاس کے دوران حکام نے وفاقی وزیر کو ایسی صنعتوں کے قیام کو ترجیح دینے کی تجاویز پر بریفنگ دی جو برآمدات میں اضافے کی نمایاں صلاحیت رکھتی ہوں، خصوصا وہ صنعتی یونٹس جو اپنی پیداوار کا 50 فیصد سے زائد حصہ برآمد کرنے کی استعداد رکھتے ہوں۔ حکام نے بتایا کہ مجوزہ پیکیج کے تحت بنیادی توجہ ایسی صنعتوں کو سہولت فراہم کرنے پر مرکوز ہوگی جن کی پیداوار کا بیشتر حصہ برآمدات کے لیے مختص ہو۔وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ مجوزہ لینڈ لیز اور مراعاتی پیکیج میں برآمدی کارکردگی سے متعلق واضح شرائط شامل کی جائیں تاکہ مراعات اور رعایتوں سے صرف وہی صنعتیں مستفید ہوں جو حقیقی معنوں میں ملکی برآمدات میں اضافے کا ذریعہ بنیں۔انہوں نے واضح کیا کہ برآمدی وعدوں کی بنیاد پر اراضی حاصل کرنے یا مراعات سے فائدہ اٹھانے والی صنعتوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ مجوزہ پیکیج میں ایسی شقیں شامل کی جائیں جن کے تحت برآمدی وعدے پورے نہ کرنے والے صنعتی یونٹس کی مراعات اور رعایتیں واپس لینے کے ساتھ ساتھ ان پر مناسب جرمانے بھی عائد کیے جا سکیں۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مجوزہ لینڈ لیز ماڈل اور مراعاتی پیکیج کا بنیادی مقصد برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی کا فروغ ہونا چاہیے۔ اس امر پر زور دیا گیا کہ اراضی کی الاٹمنٹ اور مراعات کی فراہمی کو قابل پیمائش برآمدی کارکردگی سے مشروط کیا جائے جبکہ صنعتی اراضی اور مراعات کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے موثر احتسابی نظام بھی وضع کیا جائے۔

حکام نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ صنعت کاروں کی ایک قابل ذکر تعداد مناسب مراعات اور ضروری بنیادی سہولیات کی دستیابی کی صورت میں کراچی انڈسٹریل پارک میں برآمدی صنعتی یونٹس قائم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کا جائزہ لیتے ہوئے سینیٹر احد چیمہ نے صنعتی پارک کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے پانی اور گیس کی مناسب فراہمی کے ساتھ ساتھ سڑکوں کے ذریعے بہتر رسائی یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پانی کی فراہمی سے متعلق ضروریات پوری کرنے اور مجوزہ 11 کلومیٹر طویل رابطہ سڑک کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت، حکومت سندھ کے ساتھ رابطہ اور تعاون کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی پارک کو گیس کی فراہمی کے معاملات حل کرنے کے لیے وزارت پٹرولیم اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے ساتھ بھی رابطہ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ منصوبے کی ترقی میں سہولت فراہم کرنے اور زیر التوا معاملات کے حل کے لیے وفاقی سطح پر سرمایہ کاری بورڈ بی او آئی ، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ، وزارت صنعت و پیداوار اور دیگر متعلقہ اداروں کے ذریعے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کراچی انڈسٹریل پارک سے منسلک اراضی کے موثر اور پیداواری استعمال کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے بیک وقت دو اہم مقاصد حاصل کیے جانے چاہییں جن میں ملکی برآمدات میں اضافہ اور پاکستان سٹیل ملز کی واجب الادا ذمہ داریوں میں کمی شامل ہیں۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقی اور سرمایہ کاری کے قابل عمل ماڈلز کا تفصیلی جائزہ لے کر تجارتی لحاظ سے پرکشش اور کارکردگی سے مشروط لینڈ لیز اور مراعاتی پیکیج کوحتمی شکل دی جائے جو برآمدی صنعتوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ منصوبے کی طویل المدتی معاشی افادیت بھی یقینی بنائے۔وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی انڈسٹریل پارک کی ترقی کا عمل تیز کرنے اور اسے ملکی برآمدات و معاشی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے والے صنعتی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مربوط تعاون ناگزیر ہے۔اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی، سیکرٹری قانون، سیکرٹری ایس آئی ایف سی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

 

مزید خبریں