ایس ڈی پی آئی اور ورڈینشیا گلوبل کے درمیان پاکستان کے برآمدی شعبے، صنعتوں و کاروباری اداروں میں ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی معیارات اور کاربن اخراج کی رپورٹنگ کو بہتر بنانے کیلئے ایم او یو پر دستخط

ایس ڈی پی آئی اور ورڈینشیا گلوبل کے درمیان پاکستان کے برآمدی شعبے، صنعتوں و کاروباری اداروں میں ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی معیارات اور کاربن اخراج کی رپورٹنگ کو بہتر بنانے کیلئے ایم او یو پر دستخط

اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):پاکستان کے برآمدی شعبے، صنعتوں اور کاروباری اداروں میں ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی معیارات (ای ایس جی) اور کاربن اخراج کی رپورٹنگ کو بہتر بنانے کےلئے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اسلام آباد (ایس ڈی پی آئی) اور ورڈینشیا گلوبل نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت مقامی اداروں کی استعداد کار بڑھانے، کم لاگت رپورٹنگ نظام متعارف کرانے اور کاروباری شعبے کو عالمی پائیداری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔

مفاہمت کی یادداشت پر ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر شفقت منیر احمد اور ورڈینشیا گلوبل کی چیف ایگزیکٹو آفیسر فاطمہ باجوہ نے اپنے اپنے اداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے دستخط کئے۔اس موقع پر ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں اداروں کے درمیان پہلے سے جاری رابطوں اور پائیداری و ماحولیاتی تبدیلی جیسے مشترکہ شعبہ کار کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورڈینشیا گلوبل کاروباری سرگرمیوں میں پائیداری جبکہ ایس ڈی پی آئی ترقی کے عمل میں پائیداری کے فروغ کے لئے کام کرتا ہے، اس لئے دونوں اداروں کے درمیان تحقیق، تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروباری اداروں کے درمیان ای ایس جی رپورٹنگ کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے تاہم اس مقصد کے لئے دستیاب سافٹ ویئر اور نظام انتہائی مہنگے ہیں جن کی سالانہ لاگت تقریباً 30 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ جاتی ہے، اس لئے ضرورت ہے کہ مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کم لاگت اور آسان نظام تیار کئے جائیں۔فاطمہ باجوہ نے کہا کہ ورڈینشیا گلوبل کاروباری اداروں کو ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی تقاضوں کی تکمیل اور پائیدار کاروباری طریقہ کار اپنانے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کاروباری اداروں کے لئے گرین ہائوس گیسوں کے اخراج کی مکمل اور قابل اعتماد رپورٹنگ کا نظام ضروری ہو چکا ہے مگر پاکستان اس میدان میں ابھی پیچھے ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑی عالمی کمپنیاں اپنے مقامی سپلائرز سے بھی پائیداری کے تقاضے پورے کرنے کی توقع رکھتی ہیں جس کے لئے چھوٹے کاروباری اداروں کو بھی تربیت اور مخصوص افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایس ڈی پی آئی کے مرکز برائے تعلیم و ترقی (سی ایل ڈی) کو اس مقصد کے لئے موزوں شراکت دار قرار دیا۔ایس ڈی پی آئی کی ریسرچ ایسوسی ایٹ رومیلا قمر نے کہا کہ یہ مفاہمت کی یادداشت دونوں اداروں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے اور مستقبل میں مشترکہ سرگرمیوں کے نئے راستے تلاش کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔

 

مزید خبریں