پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر
اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو محض عمومی مفاہمت تک محدود رکھنے کی بجائے عملی اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے زیر اہتمام پاکستانی جامعات اور ترکیہ کے اعلیٰ سطحی وفد کے درمیان دوطرفہ کاروباری اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس کے موقع پر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حسن مندل، ازمیر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور بوغازیچی یونیورسٹی کے ریکٹرز سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔ ملاقاتوں میں مشترکہ تحقیق، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے، تعلیمی روابط اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی نے اس امر پر زور دیا کہ دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان تعاون کو ایسے عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے جن سے طلبہ، اساتذہ اور محققین کیلئے ٹھوس مواقع پیدا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ پاکستان کا ایک اہم تعلیمی اور تزویراتی شراکت دار ہے اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد ترکیہ کے ممتاز اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے روابط کامسیٹس یونیورسٹی کے عالمی تعلیمی روابط کے دائرہ کار کو وسعت دینے، پاکستانی تعلیمی برادری کیلئے بین الاقوامی مواقع پیدا کرنے اور پاکستان ترکیہ کے درمیان اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔









