وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کے ہر ڈویژن میں کینسر ٹریٹمنٹ ہسپتال قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی تمام ڈویژنوں میں بننے والے کینسر ہسپتالوں کو 12 ماہ میں فعال کیا جائے گا،پنجاب میں صحت، ٹرانسپورٹ، سڑکوں، تعلیم اور عوامی فلاح کے متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے ہر علاقے کی ترقی یقینی بنائیں گے۔ان خیالات …
پنجاب کی تمام ڈویژنوں میں بننے والے کینسر ہسپتالوں کو 12 ماہ میں فعال کیا جائے گا،مریم نواز شریف

مزید خبریں
ملتان۔ 17 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کے ہر ڈویژن میں کینسر ٹریٹمنٹ ہسپتال قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی تمام ڈویژنوں میں بننے والے کینسر ہسپتالوں کو 12 ماہ میں فعال کیا جائے گا،پنجاب میں صحت، ٹرانسپورٹ، سڑکوں، تعلیم اور عوامی فلاح کے متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے ہر علاقے کی ترقی یقینی بنائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ملتا ن میں الیکٹرو بس سروس کے افتتاح کی تقریب کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے جلسہ عام میں جہاز کے کرائے کی ادائیگی کی رسید دکھا تے ہوئے کہا کہ بیٹی کی گریجوایشن کی تقریب میں جانے کیلئے جہاز کے استعمال پر پونے تین کروڑ روپے ادا کئے ،جہاز کے ایندھن، پارکنگ اور دیگر واجبات اپنی جیب سے دئیے ۔انہوں نے کہا کہ وی لاگر اور یوٹیوبر کو جوابدہ نہیں ہوں،اللہ تعالیٰ اور اس کے بعدعوام کو جوابد ہ ہوں،میرے خلاف بولتے رہیں، مریم نوازپر تنقید پر ان کی روٹی روزی لگی ہے تو لگی رہے ۔وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ وی لاگر اور یوٹیوبر ڈالر کما رہے ہیں تو مجھے کیا فرق پڑتا ہے،میں نے کرایہ ادا کر کے رسید سب کو دکھا دی ہے ،سدا وزیراعلیٰ نہیں رہنا،وزیراعلی ٰبننے سے پہلے کمرشل فلائٹس پر سفر کیاکرتی تھی،جہاز خریدنے سے پہلے کرائے پر جہاز لے کر سفر کیا کرتی تھی،وزٹ کیلئے جانا پڑے تو کس جہاز پر جاؤں گی؟
کیا میں سیلاب کے دوران عوام کے درمیان موجود نہیں تھی؟جہاز مریم نوازکا نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب کا ہے،چاروں صوبائی وزرائے اعلی کے پاس جہاز موجود ہیں، صرف مریم نواز پرہی تنقید کیوں؟ جہاز پر سفر نہ کروں، تو کیا چنگ چی، موٹر سائیکل یا میٹروبس پر سفر کروں؟۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے سفر کرنا پڑتا ہے، وزیراعلیٰ کا وقت انتہائی قیمتی ہوتا ہے،عوام کی خدمت کے لیے ملک کے مختلف علاقوں کے علاوہ بیرون ملک بھی جانا پڑتا ہے،بہت سے حکمران ذاتی وزٹ کیلئے بھی سرکاری جہاز لیکر جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بننے سے پہلے وہ کمرشل فلائٹس پر سفر کرتی تھیں اور سرکاری جہاز خریدنے سے قبل ضرورت کے وقت جہاز کرائے پر لیا جاتا تھا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ لندن کے ایئرپورٹس پر اچانک شٹ ڈاؤن کے باعث کمرشل فلائٹس تین سے چار روز متاثر ہوئیں، تاہم سرکاری جہاز ہونے کی وجہ سے وہ دو روز میں واپس آ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ دن رات کام کرتی ہیں اور کام کرتے کرتے ہی سو جاتی ہیں۔وزیراعلیٰ نے ملتان کے شہریوں کو الیکٹرو بس سروس کے آغاز پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ملتان میں بہت جلد 160 الیکٹرو بسیں چلنا شروع ہوجائیں گی،ہر بس میں ایئرکنڈیشن، مفت وائی فائی، موبائل چارجنگ پورٹ اور سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کی سہولت موجود ہے، جبکہ خواتین کے لیے بھی یہ سفری سہولت محفوظ بنائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں مزید 1100 الیکٹرو بسیں آرہی ہیں اور اب صوبے کے ہر ضلع اور ہر تحصیل میں الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی،سال کے آخر تک تین ہزار بسیں صوبہ بھر میں عوام کی خدمت کررہی ہوں گی جبکہ پنجاب میں 5 ہزار بسوں کا ہدف مکمل کیا جائے گا۔مریم نواز شریف نے کہا کہ صبح کے اوقات میں الیکٹرو بسوں میں طلبہ کا سب سے زیادہ رش ہوتا ہے،ماضی میں والدین محفوظ سفری سہولت نہ ہونے کے باعث بچوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے تھے اور بعض بچے بسوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور تھے، تاہم اب پنجاب میں ایسا منظر نظر نہیں ہوتا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ملتان، وہاڑی روڈ کو حادثات کی کثرت کے باعث قاتل اور خونی روڈ کہا جاتا تھا، لوگ سفر کے لیے راستے تبدیل کرلیتے تھے،پہلے ملتان سے وہاڑی کا سفر ڈھائی گھنٹے میں مکمل ہوتا تھا، سڑک کی تعمیر کے بعد اب یہی سفر ایک گھنٹے میں طے ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 35 ارب روپے کی لاگت سے ملتان، وہاڑی روڈ ایک سال میں مکمل کرائی گئی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 50 ہزار کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور بحالی کی گئی ہے، گلی محلوں کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے جبکہ شہریوں کو گھر گھر پینے کا صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ ابھی آغاز ہے، اگر انہیں مزید ڈھائی سال کام کرنے کا موقع ملا تو جنوبی پنجاب کا نقشہ بدل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال اسی جوش، جذبے اور رفتار سے کام کریں گی اور ایک ہزار گرین بسوں کا اعلان کیا تھا تو پانچ ہزار بسیں دے کر جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب نے کسی دوسرے صوبے کا حق نہیں کھایا بلکہ اپنے حق سے دوسروں کو دیا ہے،ملتان میں خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان سمیت دیگر علاقوں سے لوگ علاج کے لیے آتے ہیں، پنجاب میں کارڈیالوجی، کینسر اور دیگر بڑے ہسپتال بنائے جارہے ہیں،جہاں دوسرے صوبوں کے مریض بھی علاج کرا سکیں گے۔وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ پنجاب کے ہر ڈویژن میں کینسر ٹریٹمنٹ ہسپتال بنائیں گی اور انہیں 12 ماہ میں فعال کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملتان میں پی ای ٹی سکین کی دوسری مشین نصب کی گئی ہے جبکہ لاہور میں کوابلیشن مشین کے ذریعے کینسر کے 100 مریض کامیاب علاج کے بعد مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مریض کے علاج پر 16 سے 28 لاکھ روپے تک اخراجات آتے ہیں، تاہم پنجاب حکومت مستحق مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کررہی ہے، گزشتہ سال 10 کروڑ افراد کا مفت علاج کیا گیا جبکہ لاکھوں شہریوں کو ان کی دہلیز پر ادویات فراہم کی جارہی ہیں۔مریم نواز شریف نے کہا کہ ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ پروگرام کے تحت دولاکھ سے زائد قرضے جاری کیے جاچکے ہیں اور حکومت کا ہدف پانچ لاکھ بے گھرافرادکو گھر فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کے لیے 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ مختصر عرصے میں بڑی تعداد میں گھروں کی تعمیر پر پروگرام کو یو این ہیبی ٹیٹ کے ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں افراد کو کاشتکاری کے لیے سرکاری زرعی اراضی فراہم کی گئی اور فصل کی بوائی کے لیے 50 ہزار روپے بھی دیے گئے،10 لاکھ کاشتکاروں کو کسان کارڈ فراہم کیے گئے، جس سے وہ مڈل مین کی زیادتیوں سے محفوظ ہوئے،اس سال گندم کاشت کرنے والے کسانوں کو ان شاء اللہ اچھا منافع ملے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلبہ کے لیے ایک لاکھ ای بائیکس فراہم کی جارہی ہیں، درخواست دینے کی آخری تاریخ چاراکتوبر ہے جبکہ اب تک تین لاکھ درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، طالبات کے لیے ڈاؤن پیمنٹ کی شرط نہیں ہوگی، ہیلمٹ مفت فراہم کیا جائے گا اور دو روزہ مفت ڈرائیونگ ٹریننگ بھی دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں 300 نوازشریف سکولز آف ایمننس قائم کیے جارہے ہیں، جہاں جدید اور معیاری تعلیم فراہم کی جارہی ہے، ان سکولوں میں ایسے اداروں کے تعلیمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جو عموماً صاحبِ حیثیت خاندانوں کے بچے استعمال کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کرپشن ہر جگہ موجود ہے ،تاہم پنجاب میں کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے، اسی لیے یہ معاملہ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند روز میں 600 پولیس اہلکاروں کو مبینہ رشوت خوری پر گرفتار کیا گیا جبکہ محکمہ ریونیو اور اینٹی کرپشن کے اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتی ہوں کہ عوام کے خون پسینے اور محنت کی کمائی سوچ سمجھ کر خرچ کی جارہی ہے، ایک روپے کی خیانت نہیں کی،نہ خود خیانت کرتی ہوں اور نہ کسی کو کرنے دیتی ہوں،ترقیاتی منصوبے کسی وی لاگر کو دکھانے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی سہولت کے لیے مکمل کیے جارہے ہیں،،پنجاب کے عوام خوب جانتے ہیں کہ اصل میں چور کون ہیں اور کون چوریاں کرتا ہے۔ انہوں نے حالیہ سیاسی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا سے آنے والے افراد سڑک کنارے بیٹھے رہے اور کسی نے انہیں پہچانا تک نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج الیکٹرو بس میں بیٹھ کر تقریب میں آئی ہوں، اب اس پر بات کیوں نہیں کی جاتی؟ منہ کو تالے کیوں لگ جاتے ہیں؟تنقید مریم نواز پر نہیں بلکہ پنجاب کی ترقی پر ہورہی ہے۔مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ کے لیے 300 ارب، ’’ستھرا پنجاب‘‘ کے لیے 500 ارب جبکہ گرین بسوں اور ہسپتالوں کے لیے 200، 200 ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں،نو ارب روپے کے جہاز پر بات کرنے والے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات کریں۔انہوں نے کہا کہ بارش کے بعد اب چند گھنٹوں میں پانی کی نکاسی مکمل ہوجاتی ہے، ستھرا پنجاب کے لیے اربوں روپے کی مشینری خریدی گئی ہے اور پہلے چند اضلاع تک محدود واسا اب 40 اضلاع میں قائم ہوچکا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سموگ پر قابو پانے کے اقدامات کے بعد فضائی آلودگی میں کمی آئی اور ماحول بہتر ہوا ہے۔
انہوں نے صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی اس حوالے سے کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ نہیں چاہتیں کہ پٹرول کی بڑھتی قیمت والدین پر بوجھ بنے، اسی لیے طالبات کے لیے سکوٹی پروگرام شروع کیا جارہا ہے، پنجاب میں امن و امان کی بہتری کے لیے مشکل فیصلے کیے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ملتان کے شہریوں کی جانب سے استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ راستے میں طلبہ اور عوام کا پرجوش استقبال اور پھولوں کی بارش کی محبت وہ ساری زندگی نہیں بھولیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملتان کی سڑکوں پر صبح کے وقت گرین بسیں چلتی نظر آئیں تو سمجھ لیجیے گا کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف کی بیٹی ملتان آئی تھی۔







