ایندھن کی قیمتیں ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں، فرانس

فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ فرانس میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کا فیصلہ نہیں بلکہ ’جغرافیائی و سیاسی حالات‘ کا نتیجہ ہے۔

پیرس ۔19ستمبر (اے پی پی):فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ فرانس میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کا فیصلہ نہیں بلکہ ’جغرافیائی و سیاسی حالات‘ کا نتیجہ ہے۔ بی بی سی کے مطابق فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے، تاہم اس کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دینا ضروری ہے، جو بقول ان کے قلیل مدت میں ممکن دکھائی نہیں دیتا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ ہفتوں میں صنعتی ممالک کے گروپ کے سات ممالک کے وزرائے توانائی فرانس میں جمع ہوں گے تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں میکخواں نے آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کی اہمیت پر زور دیا۔انھوں نے لکھا کہ سمندری ناکہ بندی نے فرانسیسی شہریوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے اور اس کے اثرات پیٹرول پمپس پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایندھن کی قیمتیں ’ناقابلِ برداشت‘ ہو چکی ہیں۔ادھر آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنیوں کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز وہاں آمد و رفت اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔