دنیا بھر میں طبی عملے کی بڑھتی ہوئی قلت پر عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے دنیا بھر میں طبی عملے کی بڑھتی ہوئی قلت سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 122 ممالک میں تقریباً ہر چار میں سے ایک ڈاکٹر کی عمر 55 سال یا اس سے زیادہ ہے اور اسے آئندہ دہائی میں ریٹائرمنٹ کا سامنا ہے

جنیوا۔19ستمبر (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے دنیا بھر میں طبی عملے کی بڑھتی ہوئی قلت سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 122 ممالک میں تقریباً ہر چار میں سے ایک ڈاکٹر کی عمر 55 سال یا اس سے زیادہ ہے اور اسے آئندہ دہائی میں ریٹائرمنٹ کا سامنا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق ادارے نے ایک سرکاری اعلامیے میں کہا ہے کہ 2030 تک عالمی سطح پر صحت کے شعبے میں عملے کی قلت 11.1 ملین کارکنوں تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ 67 ممالک میں عملے کی شدید کمی کا امکان ہے، جس سے صحت کی موجودہ سہولیات کے معیار کو خطرہ لاحق ہے۔اعلیٰ آمدنی والے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جہاں آئندہ 10 سال کے دوران تقریباً ہر تین میں سے ایک ڈاکٹر کے ریٹائر ہونے کی توقع ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس کمی کے باعث کم آمدنی والے ممالک سے طبی ماہرین کی بھرتی پر انحصار بڑھ سکتا ہے، جس سے ترقی پذیر خطوں کے صحت کے نظام میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔عالمی ادارہ صحت اکیڈمی میں صحت کے شعبے کے افرادی قوت سے متعلق پالیسیوں اور اعداد و شمار کے یونٹ کے قائم مقام سربراہ ڈاکٹر خاسوم ڈیالو نے زور دیتے ہوئے کہاکہ عمر رسیدگی صحت کے شعبے کی افرادی قوت کا ایک پوشیدہ بحران ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ صحت کے نظام پر دوہرا دباؤ پیدا کر رہی ہے، بالخصوص اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں۔